خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 263

خطبات محمود ۲۶۳ سال ۱۹۳۹ ء اندازہ کرتا ہوں کہ یہ شخص بھی کہیں یہ نتیجہ تو نہیں نکال رہا کہ میں بات ٹال رہا ہوں لیکن میں نے دیکھا کہ اس کے چہرہ پر یقین اور سرور کے آثار ہیں ۔ جب اس کی نظر میری نظر سے ملی تو اس نے ہاتھ اُٹھا کر کہا کہ اچھا آپ سورہ فاتحہ پڑھ کر دعا کریں اور میں دُعا شروع کرتا ہوں ۔ وہ لوگ بھی میرے ساتھ دُعا میں شریک ہوتے ہیں مگر کچھ دیر کے بعد ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ میں نے جب دُعا ختم کی تو وہ شخص میرے سامنے آیا اور اپنا سرزمین پر اس طرح رکھ کر کہ ایک کلہ نیچے اور دوسرا اوپر کی طرف ہے زمین پر لیٹ گیا۔ وہ رو رہا ہے اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر پھیرتا ہے گویا برکت حاصل کر رہا ہے ۔ اس پر میری آنکھ کھل گئی۔ مجھے یاد نہیں کہ سورہ فاتحہ کا یہ مضمون میں نے پہلے کبھی بیان کیا ہو۔ یہ ایک قرآنی نکتہ ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ ہم نے بنالیا ہے۔ ایسی موٹی دلیل ہے کہ کوئی شخص سچائی سے گریز نہیں کر سکتا ۔ تین ہی گروہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں ۔ کوئی مغضوب اور ضال اور منعم علیہ نہیں ہو سکتا اور کوئی آیت قرآن کریم کی ایسی نہیں جو ثابت کرے کہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور افترا کرنے والا مغضوب اور ضال نہیں ہوتا اور اس پر خدا تعالیٰی خوش ہوسکتا ہے۔ یہ ایساز بر دست نکتہ ہے کہ کہیں پیش کرو اس کا کوئی جواب کسی سے نہیں بن پڑے گا۔ اس کے علاوہ سینکڑوں ایسے نکتے ہیں کہ جن کو سامنے رکھ کر اگر حضرت مرزا صاحب کو جھوٹا کہا جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اور قرآن کریم کو بھی جھوٹا کہنا پڑتا ہے اور سینکڑوں ایسے نکتے ہیں کہ جن کو سامنے رکھ کر اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کو سچا تسلیم کیا جاہے تو مجبوراً حضرت مرزا صاحب کو سچا ماننا پڑتا ہے۔ پس ایسے جلسوں سے ہمیں کیا گھبراہٹ ہو سکتی ہے؟ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں ایسے دلائل دیئے ہیں اور ہمارے ہاتھ میں ایسا زندہ قرآن دیا ہے کہ ہمارے دلوں میں کوئی شبہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا ۔ پھر ان سب باتوں کے علاوہ تازہ الہام اور رویا و کشوف ہیں جن کی جماعت میں اتنی کثرت ہے کہ کوئی شخص انکار کر ہی نہیں سکتا اور ان باتوں کی موجودگی میں احرار کا جلسہ ہمارے لئے کسی گھبراہٹ کا موجب نہیں ہو سکتا۔ باقی رہ گیا سوال رُعب کا تو یاد رکھو کہ تم زندہ خُدا کی جماعت ہو ۔ بے شک تم میں کمزور بھی ہیں بعض ایسے بھی ہیں جو جھوٹ بول لیتے ہیں ، بعض ایسے بھی ہیں جو میں نے سُنا ہے کہ پولیس کے ایجنٹ ہیں ، بعض ایسے بھی ہیں