خطبات محمود (جلد 20) — Page 216
خطبات محمود ۲۱۶ سال ۱۹۳۹ ء قریب سے کوئی شخص گزرا تو اُس نے کہا میاں تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ سایہ میں کیوں نہیں بیٹھ جاتے؟ یہ سن کر اُس نے ہاتھ پھیلا دیئے اور کہا میں بیٹھ تو جاتا ہوں مگر تم مجھے دو گے کیا ؟ یہ بھی ایسی ہی حماقت ہے۔ پڑھنے میں آخر تمہارا ور تمہاری نسلوں کا فائدہ ہے کسی اور کا اِس میں کیا اور فائدہ ہے؟ جب تم پڑھ جاؤ گے تو تم اس بات پر تیار ہو جاؤ گے کہ اپنی آئندہ نسلوں کو تعلیم دلاؤ اور اگر تم انہیں تعلیم نہ بھی دلاؤ گے تب بھی وہ کہیں گے کہ ہمارا باپ اتنا پڑھا ہوا تھا ہمیں بھی اس قد رضرور تعلیم حاصل کرنی چاہئے اس طرح علم کا تسلسل قائم رہے گا اور جن نقائص کی طرف لوگ انہیں توجہ دلائیں گے اُن کو دور کرنے کے لئے وہ تیار رہیں گے ۔ پس میں اُمید کرتا ہوں کہ ہم میں سے ایک آدمی بھی ایسا نہیں ہوگا جو یہ کہے کہ میں پڑھنا نہیں چاہتا اور اگر کوئی شخص ایسا کہتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اس کا ذہن بالکل مردہ ہے اور یہ حالت ہمارے اندر نہیں ہونی چاہئے ۔ میں چونکہ لاہور سے ابھی آ رہا ہوں اور مسجد میں پونے تین بجے کے قریب پہنچا ہوں اس لئے میں اس سے زیادہ خطبہ نہیں پڑھ سکتا مگر میں اُمید کرتا ہوں کہ دوست اس قدر مضمون سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اِس پر جوش سے عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں نے ایک تو یہ کہا ہے کہ دارالصحت والوں کو پڑھانے کے لئے دوستوں کی خدمات کی ضرورت ہے ۔ پس دوستوں کو ۔ چاہئے کہ اس غرض کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں ۔ دوسرے میں نے تعلیم و تربیت والوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ اس سال کم سے کم ایک وظیفہ دارالصحت کے کسی بچہ کو تعلیم دلانے کے لئے جاری کر دیں اور جب تک اُسے اعلیٰ تعلیم حاصل نہ ہو جائے اُس وقت تک یہ وظیفہ جاری رکھیں ۔ پھر میں نے نماز کا ترجمہ اور قرآن ناظرہ پڑھانے کے متعلق اپنی سکیم کا ذکر کیا ہے اور میں نے توجہ دلائی ہے کہ جنہوں نے اپنے آپ کو پڑھانے کے لئے پیش کیا ہے وہ ہمت اور استقلال سے پڑھائیں اور جنہوں نے پڑھنا ہے وہ بھی استقلال سے پڑھیں کیونکہ اسی پر ان کی روحانیت کا دارو مدار ہے۔ اسی طرح میں نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ وہ نہیں پڑھ سکتے یا اپنی پڑھائی کے لئے وہ وقت نہیں نکال سکتے انہیں اپنی ضد چھوڑ دینی چاہئے اور