خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 205

خطبات محمود ۲۰۵ سال ۱۹۳۹ ء کی عادت تھی ۔ جب وہ ایک چٹھی پہنچا کر آتا تو دوسرا آرڈر ملنے تک بیٹھا سائنس کے تجربے کرتا رہتا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ جوانی کو پہنچا تو سائنس سے بخوبی واقف ہو چکا تھا اور مرنے تک اُس نے ایک ہزار ایک ایجادات کیں اور ہرکارہ سے کروڑ پتی ہو کر مرا۔ ایسے واقعات ہزار ہا ہیں کہ لوگ معمولی مزدور کی حیثیت سے ترقی کر کے بڑے آدمی بن گئے جس کی وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا لیکن ہمارے ملک میں یہ ذہنیت ہے کہ لوہار ترکھان وغیرہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں تعلیم کی کیا ضرورت ہے؟ اور تعلیم حاصل کرنے والے خیال کرتے ہیں کہ ہمیں کوئی پیشہ سیکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ حالانکہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی محمد ہیں اور مفید ہیں لیکن یہاں جو شخص پڑھے وہ کہتا ہے میں لوہار یا بڑھتی کیوں بنوں اور جولوہار یا بڑھتی ہو وہ کہتا ہے کہ میں پڑھوں کیوں؟ حالانکہ جو پیشہ ور تعلیم یافتہ ہو وہ روپیہ ڈیڑھ روپیہ روزانہ کمانے کے بجائے چار پانچ روپے کما سکتا ہے اور تعلیم یافتہ آدمی اگر پیشہ جانتا ہو تو وہ بھی زیادہ ترقی کر سکتا ہے۔ پس طالب علموں کے لئے بھی میرا ارادہ ہے کہ ان کو پیشے سکھانے کا انتظام کیا جائے ۔ گو اس کے متعلق ابھی کوئی سکیم میرے ذہن میں نہیں کہ جس سے تعلیم کو نقصان پہنچائے بغیر یہ کام سکھائے جاسکیں اور میں سمجھتا ہوں اگر جماعت اس میں کامیاب ہو جائے تو پہلالڑ کا جسے نوکری ملے وہ ہمارے سکول کا طالب علم ہوگا اور ملازم رکھنے والوں کی نظر انتخاب سب سے پہلے اسی سکول سے پڑھ کر نکلنے والوں پر پڑے گی ۔ پس پیشہ ور احباب اپنے اپنے نام اور پیشے مجھے لکھیں کہ جو دوسروں کو سکھا سکتے ہیں اور خدام الاحمد یہ تین ۔ دن کے اندر اندر مجھے اطلاع دے کہ تعلیم کو عام کرنے کے لئے ان کی کیا سکیم ہے؟ اور اسی طرح لجنہ دو ہفتہ کے اندر ایسی سکیم پیش کرے کہ جس سے قادیان کی ہر عورت کو تعلیم یافتہ بنایا جا سکے ۔“ ( الفضل ۲۹ را پریل ۱۹۳۹ ء ) ا ابو داؤد كتاب الجهاد باب في النساء يَغْزُونَ 66 The Reduce the amount of:RESTRENCHMEN مہنگائی کی وجہ سے تنخواہ / آمد اتنی کم ہو جانا کہ گزارہ نہ ہو سکے ۔ معاشی مشکلات کی وجہ سے کوئی ادارہ اپنے ملازمین کو تنخواہ نہ دے سکنے کی وجہ سے اُن کو فارغ کر دے اور اُن کی ضرورتیں پوری نہ ہوسکیں۔