خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 204

خطبات محمود ۲۰۴ سال ۱۹۳۹ ء جاننے والا انٹر جب ہمارے مدرسہ سے انٹرنس پاس کر کے نکلے تو وہ صرف انٹرنس پاس نہ ہو بلکہ موچی ، معمار یا لوہار بھی ہو اور اگر یہ سکیم کامیاب ہو جائے تو جماعت کی اقتصادی حالت میں بہت اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کے علاوہ ایسے نو جوانوں کے لئے بھی کام کا انتخاب کرتے وقت وسیع میدان ہو سکتا ہے ۔ اب تو انٹرنس پاس کرنے والے نوجوان کے لئے دائرہ بہت محدود ہے وہ صرف کلر کی ہی کر سکتا ہے مگر کوئی پیشہ جاننے کی صورت میں یہ دائرہ بہت وسیع ہوگا ۔ مثلاً لوہار کا کام انٹرنس پاس ریلوے میں آسانی کے ساتھ فورمین ہو سکتا ہے اور اڑھائی تین سو روپیہ ماہوار تک تنخواہ پا سکتا ہے مگر کلرک پندرہ بیس سال کی ملازمت کے بعد بمشکل پچہتر روپیہ تک پہنچتا ہے۔ تعلیم یافتہ پیشہ ور کے لئے ترقی کا بہت موقع ہوتا ہے سندھ میں مجھے ایک شخص نے جو وہاں اسٹنٹ انجینئر تھے سُنایا کہ میں لوہار ہوں ۔ اُن میں یہ خوبی تھی کہ وہ اپنی گزشتہ حالت کو چھپاتے نہ تھے۔ بعض لوگ بہت چھپاتے ہیں ۔ اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میں پہلے میں تمیں کا مستری تھا لیکن جس وقت میں انہیں ملا ہوں وہ خان بہادر اور اسٹنٹ انجینئر تھے اور اُنہوں نے لوہار کے کام سے ہی ترقی کی تھی محنتی آدمی تھے ، رات دن محنت کرنے والے اور خطرہ سے نہ ڈرنے والے تھے ۔ اُنہوں نے سُنایا کہ ایک دفعہ دریائے سندھ کا پُل ٹوٹنے لگا ، اس زور سے طغیانی آئی کہ سب لوگ بھاگ گئے ۔ اس کے ایک حصہ کی نگرانی میرے سپر د تھی۔ میں نے سمجھا کہ میری ملازمت کا سارا ریکارڈ آج تباہ ہو جائے گا۔ میں نے سوچا کہ اگر میں خود پیچھے رہا تو کوئی آگے نہ بڑھے گا اس لئے میں خود پانی میں گود پڑا اور ساتھیوں سے کہا کہ کم بختو بھاگتے کہاں ہو؟ اور کچھ نہیں تو مٹی کے بورے بھر بھر کر ہی میرے آگے ڈالتے جاؤ۔ چنانچہ وہ ساری رات مٹی ڈالتے رہے نتیجہ یہ ہوا کہ صبح کے وقت وہ شگاف بند ہو گیا اور اس طرح ملک بھی تباہی سے بچ گیا اور بیراج پر جو کروڑوں روپیہ خرچ ہو چکا تھا وہ بھی ضائع ہونے سے بچ گیا۔ ان کی اس خدمت کی گورنمنٹ نے بہت قدر کی ۔ وائسرائے نے بھی خوشنودی کی چٹھی بھجوائی ۔ خان بہادر بنا دیا گیا اور عہدہ میں بھی ترقی ہوئی۔ تو محنت کرنے والا انسان ہمیشہ ترقی کر کے بڑھتا جاتا ہے۔ ولایت میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اسی طرح ترقی کی ہے ۔ ایڈیسن جس نے فونوگراف ایجاد کیا ہے وہ پہلے ایک کارخانہ میں چٹھیاں پہنچانے پر ملازم تھا مگر اُسے محنت