خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 566

خطبات محمود ۵۶۶ سال ۱۹۳۸ ء کی اتنی روایتیں آتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ تو ہماری جماعت میں صحابہ کو یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم پڑھے ہوئے نہیں ۔ بے شک ہم انہیں قرآن کریم کا درس دینے کے لئے نہیں کہتے کیونکہ ہم جانتے ہیں اگر وہ درس دیں گے تو کئی جگہ غلطی کر جائیں گے ۔ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ جتنی بات اُنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سُنی ہوا سے دھڑتے سے بیان کر دیں اور کسی شخص سے نہ ڈریں ۔ اگر کوئی دوسرا صحابی اس کے مقابلہ میں کوئی اور بات بیان کر دے تو اس میں ان کا کیا حرج ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کے حضور بری الذمہ ہو جائیں گے اور دوسرے لوگ موازنہ کر کے ایک صحیح رائے پر پہنچ سکیں گے ۔ حدیثوں میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں ایک صحابی کہتے ہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فلاں بات اس طرح سُنی ہے دوسرا کہتا ہے اس طرح نہیں بلکہ اس طرح ہے ۔ اب خود ہی سوچو اس میں کسی کی کیا ہتک ہو گئی۔ دونوں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اُس نے بھی اور اس نے بھی بلکہ عقلمند کے نزدیک ان کی عزت بڑھ جائے گی کیونکہ وہ کہے گا انہوں نے دین پر اپنی عزت کو مقدم نہیں سمجھا بلکہ اسے صحیح بنیادوں پر قائم رکھنے کے لئے اپنی ایک رنگ کی ہتک کو بھی گوارا کر لیا۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کے صحابہ کا بھی یہی طریق عمل ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی شخص حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی ایک واضح تعلیم کے خلاف کوئی قدم اُٹھاتا ہے تو ان کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ بتا دیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا سُنا ہوا ہے تا جماعت کسی غلطی کا شکار نہ ہو جائے ۔ اگر وہ ایک متفقہ بات جماعت کے سامنے پیش کریں گے یا ایک ایسی بات پیش کریں گے جس پر ان کی اکثریت متفق ہو گی تو خدا تعالیٰ کے حضور بہت بڑا اجر پائیں گے اور اگر ان میں سے کوئی شخص حافظہ کی کمزوری یا علم کی کمی یا کسی اور نقص کی وجہ سے کوئی بات صحیح طور پر بیان نہیں کرے گا اور صحابہ کی اکثریت اس کی بات کو رڈ کر دے گی تب بھی وہ خدا تعالیٰ سے کہہ سکے گا کہ اے خدا میں نے تیرے مسیح سے جس رنگ میں بات سُنی اور جس رنگ میں میرے حافظہ میں محفوظ تھی وہ میں نے لوگوں تک پہنچا دی تھی اور یقیناً ایسی حالت میں اگر وہ غلط بات بھی کہے گا تب بھی اسے ثواب ملے گا ۔ کیونکہ خدا کہے گا تم نے میرے دین کے جھنڈا کو اونچا رکھنے کی کوشش کی ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی ایک امت کو اس