خطبات محمود (جلد 19) — Page 565
خطبات محمود ۵۶۵ سال ۱۹۳۸ ء ان سے کہا کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ بات آپ نے اسی طرح سنی ہے میرا یہ کہنا تھا کہ وہ رونے لگ گئے اور روتے چلے گئے یہاں تک کہ پانچ سات منٹ گزر گئے اس کے بعد بڑی مشکل سے وہ کہنے لگے میرا حافظہ خراب ہے اور میں عالم نہیں ہوں ۔ شائد مجھ سے ان باتوں کے سمجھنے یا بیان کرنے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو ۔ اس لئے اب میں آگے آپ کو کوئی بات نہیں سناتا ۔ مبادا میں کوئی غلط بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کردوں ۔ بات ان کی معقول تھی اور پھر ان کا جو تقویٰ تھا وہ بھی مجھے پسند آیا کہ محض اتنی بات کا کہ کیا فلاں بات آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اسی طرح سُنی ہے اُن پر اس قد را ثر ہوا کہ روتے روتے ان کی گھگی بندھ گئی اور انہوں نے مزید تفسیر بیان کرنی بند کر دی اور کہا کہ میرا حافظہ خراب ہے اور علم زیادہ نہیں ۔ کہیں میں کوئی غلط بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب نہ کر دوں ۔ اُنہوں نے جو باتیں بیان کیں وہ بڑی معقول تھیں اور چونکہ بات لمبی تھی اس لئے ممکن ہے بعض باتیں انہیں بھول بھی گئی ہوں کیونکہ پون گھنٹہ یا گھنٹہ کی تقریر زبانی یاد نہیں رہ سکتی لیکن میری ایک ذراسی جرح پر وہ اتنے ڈر گئے کہ اُن کی گھگی بندھ گئی اور انہوں نے کہا کہ میرے لئے خدا تعالیٰ سے معافی طلب کریں۔ خبرے کے میں کوئی کی غلط بات آپ کی طرف منسوب کر گیا ہوں ۔ پھر میں نے بہتیرا زور لگایا اور کہا کہ آپ کوئی اور بات بھی سنائیں مگر اُنہوں نے کہا بات لمبی ہے کیا پتہ ہے میں صحیح طور پر اُسے یاد نہ رکھ سکا ہوں ۔ غرض اُنہوں نے پھر مجھے کوئی بات نہ سُنائی اور اُٹھ کر چلے گئے ۔ یہ ان کی احتیاط تھی جو اُنہوں نے اختیار کی ورنہ اصولی طور پر جس قدر با تیں تھیں وہ بیان کر چکے تھے اور اس میں بعض باتیں واقع میں نہایت پُر معارف تھیں اور قرآن کریم کے نئے نکات ان میں بیان کئے گئے تھے۔ تو احتیاط ضرور چاہیئے مگر احتیاط کے یہ معنے نہیں کہ یقینی طور پر انسان کو ایک بات معلوم ہو اور پھر وہ چپ کر جائے ۔ محض اس لئے کہ وہ پڑھا ہوا انہیں آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنہوں نے روایتیں بیان کی ہیں وہ کوئی بی ۔ اے یا ایم ۔ اے تو نہیں تھے ۔ یقیناً ابو ہریرہ کو بی یا اے تو تھے۔ یقیناً ابو اتنا علم نہیں تھا جتنا میر مہدی حسین صاحب کو ہے مگر احادیث کی کتابیں پڑھ کر دیکھ لو ۔ ابو ہریرہ