خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 365

خطبات محمود ۳۶۵ سال ۱۹۳۸ ء چھلکے کو چھوڑ کر مغز کی طرف توجہ کرتی ہے اور اب وہ بسیط مسئلہ ایک پیچیدہ سوال کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اب صرف یہ سوال نہیں ہوتا کہ زید نے چوری کی ہے یا نہیں ، بلکہ یہ سوال ہوتا ہے کہ اس نے کیوں چوری کی ۔ اب صرف یہ سوال نہیں ہوتا کہ زید نے مارا پیٹا ہے یا نہیں ۔ بلکہ یہ سوال ہوتا ہے کہ اگر اس نے مارا ہے تو کیوں؟ اسی طرح صرف یہ سوال نہیں ہوتا کہ زید نے کسی کو بُرا بھلا کہا ہے یا نہیں ، بلکہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے اگر بُرا بھلا کہا ہے تو کیوں کہا ہے۔ تو جذبات کی دنیا میں بہت سی باتیں سامنے آجاتی ہیں ۔ مثلاً یہی کہ فعل کے محرکات کیا ہیں ، اس نے کن حالات میں اس فعل کا ارتکاب کیا ہے ، اسے کسی نے انگیخت کی ہے یا نہیں اور اگر کسی نے انگیخت کی تھی تو وہ معمولی انگیخت تھی یا ز بر دست اور وہ اس انگیخت کا آسانی سے مقابلہ کر سکتا تھا یا نہیں ، پھر یہ کہ فاعل کا ماحول کیسا تھا اور اگر اس نے بدی کی تو کن حالات میں کیونکہ ماحول سے بھی کسی کی مجبوری یا عدم محبوی ظاہر ہو جاتی ہے۔ ایک شخص نمازی ہوتا ہے مگر نمازیوں کے گھر میں اور دوسرا شخص نمازی ہوتا ہے مگر بے نمازیوں کے گھر میں ۔ اب یہ یقینی بات ہے کہ ۔ رہ با اس کی نماز زیادہ اعلیٰ درجہ کی ہے جو بے نمازوں میں رہ کر باقاعدہ نماز پڑھتا ہے بہ نسبت اس شخص کے جو ایسے ماحول میں ہے جہاں تمام لوگ التزام کے ساتھ نماز پڑھنے کے عادی ہیں۔ اسی طرح اس کی مجبوریاں دیکھی جائیں گی ، اس کا نقطۂ نگاہ دیکھا جائے گا کیونکہ نقطۂ نگاہ کے بدل جانے سے بھی بہت فرق پڑ جاتا ہے۔ اور پھر گو جرم رہ جاتا ہے مگر اس کے متعلق نفرت کم ہو جاتی ہے۔ جیسے پٹھانوں میں یہ دستور ہے کہ جب ان میں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اٹھ کر اسے قتل کر دیتے ہیں اور اسے بالکل جائز سمجھتے ہیں ۔ اب ایک ہی فعل اگر ایک پٹھان کرے گا تو گو اس کے متعلق بھی ہمارے دل میں نفرت پیدا ہو گی مگر وہ اتنی نہیں ہوگی جتنی اس وقت پیدا ہو گی جب ایک پنجابی ایسی ہی حرکت کرے گا کیونکہ پنجابی کا نقطۂ نگاہ اور تھا اور پٹھان کا اور یا سکھ اور عیسائی سؤ رکھاتے ہیں اور ہم سب اسے جانتے ہیں ۔اب سؤر کھانا یقینی طور پر بُری بات ہے۔ مگر ایک سکھ یا عیسائی کو سؤ رکھاتے دیکھ کر ہمارے دل میں وہ جذبات نفرت پیدا نہیں ہونگے جو ایک مسلمان کو سو رکھاتے دیکھ کر پیدا ہوں گے حالانکہ فعل ایک ہی ہے وہ بھی سؤ رکھا رہا ہے اور یہ بھی سؤ رکھا رہا ہے۔ ایک ہندو نماز نہیں پڑھتا اور ہم