خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 364

خطبات محمود ۳۶۴ سال ۱۹۳۸ ء ہتک عدالت کے جرم میں اسے سزا دینی چاہئے ۔ جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے ہائی کورٹ کے ججوں نے اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل کی تقریر سننے کے بعد کہا کہ یہ جرم ا یہ جرم اصطلاحی طور پر جرم ہے ۔ ہم مانتے ہیں کہ مضامین میں جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں یہ استعمال نہیں کرنے چاہئیں تھے مگر جو الفاظ مجسٹریٹ نے استعمال کئے ہیں ان کو سن کر بھی ایک مسلمان کا بے قابو ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ۔ پس اگر آپ زور دیتے ہیں تو ہم اسے بلا تو لیں گے۔ مگر یہ جرم صرف اصطلاحی مجرم ہوگا اور ہم اسے صرف نام کی سزا دیں گے مگر اس کے ساتھ ہی نہائت سخت ریمارکس مجسٹریٹ کے متعلق اپنے فیصلہ میں لکھیں گے۔ اس پر گورنمنٹ ایڈووکیٹ کچھ ڈھیلے ہوئے اور ججوں نے الفاظ میں فیصلہ کر دیا کہ ہم سمجھتے ہیں اگر ہم نے ایڈیٹر ” الفضل“ کو بلایا تو ہم اسے سزا دینے کے لئے تیار نہیں ہوں گے اس لئے اس مقدمہ کو خارج کرتے ہیں ۔ گویا انہوں نے ایک طرف جرم کو تسلیم کیا مگر ساتھ ہی کہا کہ حالات ایسے ہیں کہ ہماری ہمدردی مجرم کی طرف جا رہی ہے اور صاف کہہ دیا کہ اگر ہم اسے بلائیں گے تو صرف NOMINAL سزا دیں گے مگر دوسرے کے متعلق ہمارا رویہ سخت اظہار نفرت کا ہوگا اس لئے یہی بہتر ہوگا کہ اسی مرحلہ پر اس مقدمہ کو چھوڑ دیا جائے ۔ چنانچہ انہوں نے مقدمہ خارج کر دیا۔ اس فیصلہ کے ساتھ جوں نے یہ ثابت کر دیا کہ قانون ، انصاف اور انسانیت کے اعلیٰ اخلاق بیک وقت ایک وجود میں جمع ہو سکتے ہیں۔ اور ایسے ہی فیصلے ہوتے ہیں جو قضاء کے رعب کو دنیا میں قائم رکھتے ہیں ۔ قضاء کا رعب صرف پھانسیاں دیتے جانے سے نہیں ہوتا بلکہ ایسے فیصلوں سے ہوتا ہے جہاں انسانی فطرت کا مطالعہ کر کے صحیح راستہ اختیار کیا جائے ، خواہ سختی کا ہو خواہ نرمی کا ۔ تو فیصلوں کے لحاظ سے ہمارا پورا فرض ہے کہ جو جُرم ہے اسے مجرم کہیں اور جو نیکی ہے اسے نیکی کہیں لیکن جب ہم جذبات کی دنیا میں آتے ہیں تو معاملہ بہت زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے کیونکہ ہر شخص کے اندر اللہ تعالیٰ نے دو مجسٹریٹ پیدا کئے ہیں ۔ ایک دماغی مجسٹریٹ ہوتا ہے اور ایک جذباتی مجسٹریٹ ہوتا ہے۔ دماغی مجسٹریٹ کا کام زیادہ آسان ہوتا ہے مگر جذباتی مجسٹریٹ کا فیصلہ بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے ۔ جب انسان دماغی مجسٹریٹ کے بعد جذباتی مجسٹریٹ کے محکمہ میں آتا ہے تو چونکہ انسانیت قضاء کے ذریعہ سے اپنا حق ادا کر چھکتی ہے اس لئے اب وہ