خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 453

خطبات محمود ۴۵۳ سال ۱۹۳۷ء یہ سوال پیدا ہونے لگا کیونکہ آپ کی مدینہ میں تشریف لانے کی وجہ سے ان کی کئی امیدیں باطل ہو گئیں تھیں ۔ چنانچہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ مدینہ میں عربوں کے دو قبیلے تھے اوس اور خزرج ۔ اور یہ ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے اور قتل اور خونریزی کا بازار گرم رہتا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اس لڑائی کے نتیجہ میں ہمارے قبائل کا رُعب مٹتا جا رہا ہے تو انہوں نے آپس میں صلح کی تجویز کی اور قرار پایا کہ ہم ایک دوسرے سے اتحاد کر لیں اور کسی ایک شخص کو اپنا بادشاہ بنا لیں چنانچہ اوس اور خزرج نے آپس میں صلح کر لی اور فیصلہ ہوا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول کو مدینہ کا بادشاہ بنا دیا جائے ۔ اس فیصلہ کے بعد انہوں نے تیاری بھی شروع کر دی اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے لئے تاج بننے کا حکم بھی دے دیا گیا۔ اتنے میں مدینہ کے کچھ حاجی مکہ سے واپس آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ آخری زمانہ کا نبی مدینہ میں ظاہر ہو گیا ہے اور ہم اس کی بیعت کر آئے ہیں۔ اس پر رسول کریم ﷺ کے دعوی کے متعلق چہ میگوئیاں شروع گئیں ۔ اور چند دنوں کے بعد بعض اور لوگوں نے بھی مکہ جا کر رسول کریم ﷺ کی بیعت کر لی۔ پھر انہوں ہے صلى الله الله ہو نے رسول کریم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ہماری تربیت اور تبلیغ کے لئے کوئی معلم ہمارے ساتھ بھیجیں۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے ایک صحابی کو مبلغ بنا کر بھیجا اور مدینہ کے بہت سے لوگ اسلام میں الله صلى الله عروسة داخل ہو گئے ۔ انہی دنوں میں چونکہ مکہ میں رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو بہت سی تکالیف پہنچائیں جا رہی تھیں اس لئے اہل مدینہ نے آپ سے درخواست کی کہ آپ مدینہ میں تشریف ۔ پ مدینہ میں تشریف لے آئیں ۔ چنانچہ صلى الله جو رسول کریم علیم بہت سے صحابہ ا به سمیت سمیت مدینہ مد ۔ ہجرت کر کے آ گئے ۔ اور عبداللہ اللہ بن بن ابی ابی بن بن سلول کے لئے تاج تیار کر وایا جارہا تھا وہ دھرا کا دھرا رہ گیا کیونکہ جب انہیں دونوں جہانوں کا بادشاہ مل گیا تو انہیں کسی اور بادشاہ کی کیا ضرورت تھی ۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی بادشاہت کے تمام صلى الله امکانات جاتے رہے ہیں تو اسے سخت غصہ آیا۔ اور گو وہ بظاہر مسلمانوں میں مل گیا مگر ہمیشہ اسلام رخنے ڈالتا رہتا تھا۔ اور چونکہ اب وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اُس کے دل میں اگر کوئی خواہش پیدا ہو سکتی تھی تو یہی کہ محمد ﷺ الے فوت ہوں تو میں مدینہ کا بادشاہ بنوں لیکن مسلمانوں میں جو نہی بادشاہت قائم ہوئی صلى الله اور ایک نیا نظام انہوں نے دیکھا تو انہوں نے رسول کریم ﷺ سے مختلف سوالات کرنے شروع کر دئیے کہ اسلامی حکومت کا کیا طریق ہے ۔ آپ کے بعد اسلام کا کیا حال ہوگا اور اس بارہ میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے ۔ عبداللہ بن ابی بن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اسے خوف پیدا ہونے لگا کہ اب اسلام