خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 452

خطبات محمود عورتوں سے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہوئی ۴۵۲ صلى الله سال ۱۹۳۷ء کی کوئی وجہ نہیں ہوتی ۔ پس آپ پر الزام یا رسول کریم ﷺ سے بغض کی وجہ سے لگایا گیا صلى الله الله یا حضرت ابو بکر سے ابو بکر سے بغض کی وجہ سے ایسا کیا گیا ۔ رسول کریم ﷺ کو جو مقام حاصل تھا وہ تو الزام لگانے والے کسی طرح چھین نہیں سکتے تھے۔ انہیں جس بات کا خطرہ تھا وہ یہ تھا کہ رسول کریم ﷺ کے بعد بھی وہ اپنی اغراض کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائیں اور وہ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ ہونے کا اگر کوئی شخص اہل ہے تو وہ ابو بکر ہی ہے۔ پس اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے انہوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ رسول کریم ﷺ کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کے گر جانے کی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ کو مسلمانوں میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی جاتا رہے اور مسلمان آپ سے بدظن ہو کر اس عقیدت کو ترک خلیفہ ہونے کا کر دیں جو انہیں آپ سے تھی ۔ اور اس طرح رسول کریم ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر رت ابوبکر کے خلیفہ ہے دروازہ بالکل بند ہو جائے ۔ جس طرح حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں پیغامیوں کا گروہ مجھ پر اعترض کرتا رہتا تھا اور مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ پس یہی وجہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہ پر الزام لگنے کے واقعہ کے بعد خلافت کا بھی ذکر کیا۔ حدیثوں میں صریح طور پر آتا ہے کہ صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ صلى صلى الله رسول کریم ﷺ کے بعد اگر کسی کا مقام ہے تو وہ ابوبکر کا ہی مقام ہے ۔ اسے پھر حدیثوں میں آتا ہے کہ دفعہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ يَا رَسُولَ الله آپ میری فلاں حاجت پوری کر دیں۔ آپ نے فرمایا اس وقت نہیں پھر آنا ۔ وہ بدوی تھا اور تہذیب اور شائستگی کے ایک اصول سے نا واقف تھا اُس نے کہا آخر آپ انسان ہیں اگر میں پھر آؤں اور آپ اُس وقت فوت ہو چکے ہوں تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اگر میں دنیا میں نہ ہوا تو ابوبکر کے پاس چلے جانا وہ تمہاری حاجت پوری کر دے گا ۔ ۲۲ اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اے عائشہ ! ! ائشہ! میں چاہتا تھا کہ ابو بکر کو اپنے بعد نامزد کر دوں مگر میں جانتا ہوں کہ اللہ اور مومن اس کے سوا اور کسی پر راضی نہ ہونگے ۱۳ اس لئے میں کچھ نہیں کہتا ۔ غرض صحابہ یہ قدرتی طور پر سمجھتے ہیں کہ رسول کریم کے بعد ان میں سے اگر کسی کا درجہ ہے تو ابو بکر کا اور وہی آپ کا خلیفہ بننے کی کے اہل ہیں ۔ یکی زندگی تو ایسی تھی کہ اس میں حکومت اور اس کے انتظام کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا۔ لیکن مدینہ میں رسول کریم ﷺ کے تشریف لانے کے بعد حکومت قائم ہوگئی ۔ اور طبعاً منافقوں کے دلوں میں صلى الله