خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 154

خطبات محمود اولد سال ۱۹۳۷ء میسر آجائیں تو ہم دنیا کو ڈرا سکتے ہیں۔ اگر چالیس آدمی ایسے مل جائیں جو مار کھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں تو وہ دنیا کو ڈرا سکتے ہیں اور اگر چالیس آدمی ایسے میسر آجائیں جو مارنے کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہوں تو وہ بھی دنیا کو ڈرا سکتے ہیں ۔ مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم میں سے بعض دشمن سے کوئی گالی سنتے ہیں تو ان کے منہ میں جھاگ بھر آتی ہے اور وہ گود کر اُس پر حملہ کر دیتے ہیں ۔ لیکن اُسی وقت ان کے پیر پیچھے کی طرف پڑ رہے ہوتے ہیں ۔ تم میں سے بعض تقریر کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مرجائیں گے مگر سلسلہ کی ہتک برداشت نہ کریں گے لیکن جب کوئی ان پر ہاتھ اُٹھاتا ہے تو پھر ادھر اُدھر دیکھنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھائیو! کچھ روپے ہیں جن سے مقدمہ لڑا جائے ، کوئی وکیل ہے جو وکالت کرے؟ بھلا ایسے خوں نے بھی کسی قوم کو فائدہ پہنچایا ہے؟ بہادر وہ ہے جو اگر مارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو مار کر پیچھے ہٹتا ہے اور پکڑا جاتا ہے تو دلیری سے سچ بولتا ہے۔ اور اگر مار کھانے کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر جوش میں نہیں آتا اور اپنے نفس کو شدید اشتعال کے وقتوں میں بھی قابو رکھتا ہے ۔ پس اگر تم جیتنا چاہتے ہو تو دونوں میں سے ایک اصل اختیار کرو۔ جو کچھ میں سمجھتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ بہادر بنو مگر اس طرح کہ مار کھانے کی عادت ڈالو اور امام کے پیچھے ہو کر دشمن سے جنگ کرو۔ ہاں جب وہ کہے کہ اب لڑ واس وقت بیشک لڑو۔ لیکن جب تک تمہیں امام لڑائی کا حکم نہیں دیتا اُس وقت تک دشمن کو سزا دینے کا تمہیں اختیار نہیں ۔ لاٹھی اور سوٹے سے ہی نہیں بلکہ ایک ہلکا ساتھپڑ مارنا بھی تمہارے لئے جائز نہیں ۔ بلکہ میں کہتا ہوں تھپڑ تو الگ رہا ایک گلاب کے پھول سے بھی تمہیں دشمن کو اُس وقت تک مارنے کی اجازت نہیں جب تک امام تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دے۔ لیکن اگر تمہارا یہ عقیدہ نہیں تب بھی میں شریف انسان تمہیں تب ہی سمجھوں گا کہ اگر تمہارا یہ دعوئی ہو کہ گالی دینے والے دشمن کو ضرور سزا دینی چاہئے اور تم اُس گالی دینے والے کے جواب میں سخت کلامی کرتے ہو اور اُس سے جوش ر دو جس منہ میں آکر وہ پھر اور بد کلامی کرتا ہے تو پھر تم مٹ جاؤ اور اپنے آپ کو فنا کر دو لیکن اُس ، اُس منہ کو توڑ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیلئے گالی نکلی تھی ۔ اُس کو خاموش کرانا تمہارا ہی فرض ہے کیونکہ تمہارے ہی فعل سے اُس نے مزید گالیاں دی ہیں ۔ کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بد لگام دشمن کا جواب دے کر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہتے ہو !! اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ سچ یہ عقیدہ ہے