خطبات محمود (جلد 18) — Page 153
خطبات محمود ۱۵۳ سال ۱۹۳۷ء ان لوگوں کا ہے انہوں نے بھی بڑھ بڑھ کر باتیں کیں اور جماعت کو مزید مشکلات میں مبتلا کرا دیا اور جب کبھی ان کی مدافعت کی غلط تدبیروں سے فساد اور بڑھ گیا اور اس کے نتائج کو برداشت کرنے کا وقت آیا تو کمزوری دکھا دی اور مقدمہ لڑ کر اس امر کی کوشش شروع کر دی کہ ان کی بریت ہو جائے ۔ حالانکہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دے گا میں ضرور اسے سزا دوں گا۔ تو اگر اس کا یہ مقولہ صیح ہے تو سزا دینے کے بعد اسے دلیری سے اپنے جرم کا اقرار کرنا چاہئے اور اسے کہنا چاہئے مجھے جہاں چاہتے ہو لے جاؤ۔ میں نے اس کے منہ سے گالی سنی اور میں اسے برداشت نہیں کر سکا۔ فرض کرو کوئی شخص کہتا ہے کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دے گا میں اُسے جوتی ماروں گا ۔ اگر اسے ہماری تعلیم سے اتفاق نہیں تو جائے اور اُسے جوتی مارے اور پھر نتائج بھگتنے کیلئے تیار ہے ۔ مگر اِدھر تو وہ ہماری رائے سے اتفاق اتفاق نہیں کرتا کرتا اُدھر جب دوسرے کو مار کر آتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے فعل کے جواب دہ تم ہو ۔ یاد رکھو دنیا میں قیام امن دو ذرائع سے ہوتا ہے یا اُس وقت جب مار کھانے کی طاقت انسان میں پیدا ہو جائے یا جب دوسرے کو مارنے کی طاقت انسان میں پیدا ہو جائے ، درمیانی دوغلہ کوئی چیز نہیں ۔ اب جو کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم میں مار کھانے کی طاقت ہونی چاہئے ۔ بالکل ممکن ہے تم میں سے بعضوں کا یہ خیال ہو کہ ہم میں مارنے کی طاقت ہونی چاہئے ۔ میں اسے غیر معقول نہیں کہتا ہاں غلط ضرور کہتا ہوں ۔ یہ ضرور کہتا ہوں کہ اُس نے قرآن کریم کو نہیں سمجھا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو نہیں سمجھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے مارنے کیلئے جو شرائط رکھی ہیں وہ اس وقت ہمیں میسر نہیں۔ پس کم سے کم میں اسے شرارتی یا پاگل نہیں کہوں گا میں زیادہ سے زیادہ یہی کہوں گا کہ اُس کی ایک رائے ہے جو میری رائے سے مختلف ہے ۔ لیکن تمہاری یہ سے منہ حالت ہے کہ تم میں سے ایک شخص کہتا ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے اور پھر جب وہ ہماری تعلیم کے صریح خلاف کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتا ہے تو بھاگ کر ہمارے پاس آتا ہے اور کہتا ہے مجھے بچانا مجھے بچانا۔ آخر جماعت تمہیں کیوں بچائے؟ کیا تم نے جماعت کے نظام کی پابندی کی یا اپنے جذبات پر قابو رکھا ؟ اور اگر تم اس خیال کے قائل نہیں تھے تو پھر تمہیں ہمارے پاس بھاگ کر آنے کی کیا ضرورت ہے۔ تمہیں چاہئے کہ تم دلیری دکھاؤ اور اپنے جرم کا اقرار کرو۔ اگر ان دونوں عقیدوں کے چالیس چالیس آدمی بھی