خطبات محمود (جلد 17) — Page 431
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۲۲ سال ۱۹۳۶ء حکومت پنجاب کے وہ افسر جو احرار کی ہمدردی میں گھلے جا رہے ہیں اور ہمارا اپنے حقوق لینا انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا ان کی مدد نہ کریں، ان کے بھائی یعنی احرار ان کی طرف توجہ نہ کریں ، تو وہ میرے پاس آئیں میں پھر بھی ان کی مدد کروں گا۔ میں دولتمند نہیں ہوں بے شک قادیان کے مالکوں میں سے ہوں اور اس کے علاوہ بھی تین گاؤں کا ہمارا خاندان مالک ہے مگر آمد کے لحاظ سے ہم دولت مند نہیں ہیں تاہم جب مائی باپ مدد سے ہاتھ اُٹھا لیں اور جب برادر پیٹھ دکھا جائیں اُس وقت میں جوان کے خیال میں ان کا دشمن ہوں ان کی مدد کروں گا اور ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ حُسنِ سلوک اور کیا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر وہ پھر بھی شرم و حیا سے کام نہ لیں تو میں سوائے اس کے کیا کہہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کا علاج کرے انسان کے پاس ان کا کوئی علاج نہیں ۔ یہ دو تجویزیں پیش کر کے میں انتظار کروں گا کہ وہ کس تجویز پر عمل کرتے ہیں لیکن میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں ہنسی اور تمسخر کی کوئی تجویز سننے کیلئے تیار نہیں ہوں ۔ مثلاً کوئی ایک شخص مجھے لکھ دے کہ میرے لئے علیحدہ قبرستان کا انتظام کر دو تو میں یہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہوں ۔ یہ اسی صورت میں میں مانوں گا کہ سب کے سب احراری باشندے یہ لکھ دیں اور پھر ان میں سے آئندہ کسی نئے یا پرانے شخص کو اختیار نہیں ہوگا کہ اس جتھہ میں شامل ہو۔ یا کوئی اعتراض دوسرے قبرستانوں کے متعلق کرے اور کوئی احراری اس جتھے سے باہر نہ رہ سکے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ احراری قادیان کے کتنے لوگوں کے نمائندہ ہیں ۔ یا کیا وہ واقعہ میں ہمارے ساتھ ایک قبرستان میں دفن ہونے کو اپنے لئے موجب ناپا کی خیال کرتے ہیں۔ اگر کوئی غیر احمدی ان کے ساتھ شامل نہ ہونا چاہے تو بے شک نہ ہو مگر یہ حق کسی کو نہیں ہوگا کہ بعد میں پھر بدل جائے ۔ جو اب علیحدہ ہو جائیں گے وہ علیحدہ رہیں گے اور جو ہمارے ساتھ ہوں گے وہ ہمارے ساتھ شامل رہیں گے اور باقاعدہ قانونی تدابیر کے بعد میری ان تجاویز پر عمل ہوگا۔ ان دونوں میں سے جو تجویز وہ بہتر سمجھیں مان لیں ، احرار سے زمین لے لیں جس کی قیمت میں دے دوں گا ، یا مجھے لکھ دیں کہ وہ نہیں دیتے تو میں خود خرید کریا اپنی پُرانی زمینوں میں سے ان کو دے دوں گا ۔ اس کے بعد میں خطبہ کو اس بات پر ختم کرتا ہوں کہ میں نے انتہائی صورت ان کو خوش کرنے کی پیش کر دی ہے اور اپنی طرف سے انتہائی تذلل کا اظہار کر دیا ہے۔ اس کے باوجود اگر