خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 274

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۶۵ سال ۱۹۳۶ء بہادری و الله بہادری کے لفظ سے یہ معلوم نہیں ہوتا یہ چیز کہاں سے آئی اور تو کل کا لفظ بتا دیتا ہے کہ اس قسم کی بہادری اعلیٰ مقصد سے پیدا ہوتی ہے۔ تو کل کے یہی معنی ہیں کہ خدا کے مقابلہ میں انسان ہر چیز کی قربانی کیلئے تیار ہو گویا تو کل کا لفظ بہادری کے اسباب و وجوہ اور اس کا منبع بھی بتا دیتا ہے اور و تو گل میں صرف یہی فرق ہے ورنہ دونوں چیزیں ایک ہی ہی ہیں ۔ اسی بہادری کو ہم رسول کریم ﷺ کے صحابہ میں بھی دیکھتے ہیں اور صحابہ میں ہی نہیں بلکہ صحابیات میں بھی ہمیں یہ چیز نظر آتی ہے اور نہ صرف عورتوں بلکہ بچوں میں بھی موجود ہے۔ آج وہ زمانہ آیا ہے کہ لوگ اسلام اور ایمان کیلئے قربانی سے بچنے کیلئے عذر اور بہانے تلاش کرتے ہیں اور وقت آنے پر کہتے ہیں کہ ہمیں یہ دقت ہے وہ روک ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ کے ماتحت مسلمانوں میں قربانی کا وہ جذبہ پیدا ہو چکا تھا کہ مرد اور بالغ عورتیں تو الگ رہیں بچے بھی اسی جذبہ سے سرشار نظر آتے تھے تھے ۔ یہاں تک کہ بدر کی جنگ کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو بلایا تا کہ ان میں سے ان لوگوں کا انتخاب کریں جو جنگ کے قابل ہوں ۔ اُس وقت ایک لڑکے کے متعلق آتا ہے رے صحابہ اور وہ خود بھی بیان کرتا ہے کہ جس وقت وہ ہ لوگ لوگ کھڑے کھڑ ۔ ہوئے وہ وہ؟ بھی اس جوش میں صلى الله کہ اسلام کی خاطر جان قربان کرنے کا موقع ملے اُن میں کھڑا ہو گیا مگر چونکہ قد چھوٹا تھا دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں چھوٹا معلوم ہوتا تھا اس وجہ سے خطرہ تھا کہ شاید منتخب نہ ہو سکے اس لئے وہ اپنی انگلیوں کے بل کھڑا ہو گیا اور ایڑیاں اوپر اٹھا لیں تا قد اونچا معلوم ہو اور چھاتی تان لی تا کمزور نہ سمجھا جائے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ پندرہ سال سے کم عمر کا کوئی لڑکا نہ لیا جائے الله ۔ اور جب آپ انتخاب کرتے ہوئے اس کے پاس پہنچے تو فرمایا کہ یہ بچہ ہے اسے کس نے کھڑا کر دیا ہے اسے ہٹا دو ۔ مگر آج ایسا ہوتا تو شاید ایسا بچہ خوشی سے اُچھلنے لگتا کہ میں بچ گیا لیکن جب اُس بچہ کو الگ کیا گیا تو وہ اتنا رویا اتنا رویا کہ رسول کریم ﷺ کو رحم آگیا اور آپ نے فرمایا اچھا اسے لے لیا جائے ہے۔ صلى الله پھر اُس زمانہ کی عورتوں کا یہ حال تھا کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی اور کہا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! قرآن کریم کس کیلئے ہے؟ آپ نے فرمایا سب انسانوں کیلئے ۔ اس نے عرض کیا کیا عورتوں کیلئے بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ اس پر اس نے کہا کہ پھر جہاد کے حکم پر عورتوں کو کیوں عمل