خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 273

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۶۴ سال ۱۹۳۶ء آپ کی نہیں مان سکتا آپ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں اور اپنی قوم سے صلح کر لیں میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ اس پر باوجود اس کے کہ ابو طالب کیلئے قوم کا چھوڑ نا مشکل تھا اس دلیرانہ جواب کو سُن کر ان پر یہ اثر ہوا کہ انہوں نے کہا کہ اگر قوم مجھے چھوڑتی ہے تو بے شک چھوڑ دے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔ گا ۔ ابوطالب کے اس جواب کی اہمیت کا پورا اندازہ وہ لوگ نہیں کر سکتے جو تاریخ سے صلى الله نا واقف ہونے کی وجہ سے ایک اور واقعہ کو نہیں جانتے جس سے ابو طالب کی قلبی کیفیت کا پتہ چلتا اور یہ معلوم ہوتا کہ انہیں اپنی قوم سے کتنی محبت تھی ۔ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو چونکہ رسول کریم ﷺ کو ان سے بہت ہی محبت تھی اُن کی قربانیوں اور حُسنِ سلوک کی وجہ سے ، اس لئے آپ کو سخت دُکھ تھا کہ آپ مسلمان ہوئے بغیر مر رہے ہیں ۔ آپ کبھی ان کے دائیں جاتے اور کبھی بائیں اور کہتے کہ اے چچا ! اب موت کا وقت قریب ہے لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ کہ دیجئے مگر ابو طالب خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔ آخر رسول کریم ﷺ نے بہت اصرار کیا آپ پر رقت طاری تھی اور آپ بار بار کہتے تھے کہ اے چا! ایک دفعہ کلمہ پڑھ لیں تا کہ میں خدا کے حضور کہہ سکوں کہ آپ نے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن ابوطالب نے آخر میں یہی جواب دیا کہ میں اپنی قوم کے دین کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ گویا ان کو اپنی قوم سے اتنی محبت تھی کہ وہ اس کے بغیر جنت میں سکتا۔ کے بھی جانا نہ چاہتے تھے۔ اس قوم سے اس قدر شدید محبت رکھنے والے شخص پر رسول کریم ﷺ کے بہادرانہ جواب کا یہ اثر ہوا کہ اُس نے کہہ دیا کہ اچھا اگر قوم مجھے چھوڑتی ہے تو چھوڑ دے میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا ہے۔ غرض ایسے واقعات کو دیکھ کر دوست تو کیا دشمن بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ہر شخص خواہ اس کے دل میں کتنا عنا د بھی کیوں نہ ہو ان واقعات کو سن کر سر جھکا لیتا ہے اور ایسے بہادر کی عظمت کے اقرار پر مجبور ہو جاتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ایسے بیسیوں نہیں سینکڑوں صلى الله م واقعات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ بہادری کے ایسے بلند مقام پر تھے کہ اس سے اوپر خیال بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ بہادری کہاں سے پیدا ہوئی ؟ یہ تو کل ہی سے تھی۔ دنیا دار جیسے بہادری کہتے ہیں مذہبی لوگ اسے تو گل کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ فرق صرف یہی ہے کہ