خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 20

خطبات محمود سال ۶۱۹۳۴ خون بہائیں گے۔ وہ اپنی موت کو زیادہ پسند کرتے تھے یہ نسبت اس امر کے کہ کسی دوسرے کا خون گرائیں۔ طلحہ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ خصوصیت سے شیعہ لوگ کہ قرآن مجید نے صحابہ " کی یہ کمزوری بیان کی ہے کہ وہ جنگ سے موت کی طرح ڈرتے تھے لیکن یہ صحیح نہیں۔ صحابہ اپنے مرنے سے نہیں بلکہ دوسروں کو مارنے سے ڈرتے تھے اور دوسرے کا خون گرانا انہیں موت نظر آتا تھا۔ جب حضرت علی سے لڑائی ہونے لگی تو اُس وقت حضرت علی نے کہا کہ اور زبیر کو بلاؤ۔ جب وہ آگئے تو آپ نے اُنہیں کہا تمہیں یاد ہے رسول کریم نے فلاں فلاں موقع پر کیا فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا یاد ہے۔ آپ نے کہا تو پھر تمہارا مجھ سے جنگ کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ یہ سن کر حضرت طلحہ و زبیر" چلے گئے اور لڑائی کا ارادہ ترک کر دیا۔ حضرت طلحہ کے پیچھے پیچھے ایک دشمن ہو لیا اور اُس نے آپ کو تلوار ماری۔ انہوں نے کہا کہ میں تلوار نہیں چلاؤں گا کیونکہ میں نے رسول کریم اللہ سے سنا ہوا ہے کہ جو علی کے مقابل پر تلوار چلائے گا وہ ظالم ہوگا۔ آخر اُس نے حضرت طلحہ " کو شہید کردیا اور آپ کا سر کاٹ کر حضرت علی کے پاس لایا اور کہا مبارک ہو میں نے طلحہ کو مار دیا۔ حضرت علی نے کہا تجھے دوزخ کی مبارک ہو کیونکہ میں نے رسول کریم" سے سنا ہوا ہے کہ طلحہ " کو ایک دوزخی آدمی مارے گاھے - عرض صحابہ میں بہادری تھی تو ایسی کہ ان پر تیروں کی بارش ہوتی اور وہ اُف تک نہ کرتے چنانچہ میں نے یہ واقعہ کئی دفعہ بیان کیا ہے۔ نام یقینی طور پر یاد نہیں۔ شاید حضرت طلحہ " ہی تھے یا کوئی اور ان کے متعلق لکھا ہے کہ ان کا ایک ہاتھ ناکارہ ہو گیا تھا کسی نے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہوئی تو وہ کہنے لگے ایک جنگ کا موقع تھا دشمن اپنے تیر رسول کریم اللہ کی طرف پھینکتے تھے اور میں اپنے ہاتھ پر ان تیروں کو لیتا جاتا تھا اور سی بھی نہیں کرتا تھا ہے ۔ یہاں تک کہ میرا ہاتھ شل ہو گیا۔ یہ دلیری اور بہادری تھی جو صحابہ کے اندر پائی جاتی تھی۔ ایک طرف تو انہوں نے یہ جرأت کا نمونہ دکھایا کہ ہاتھ تیروں کی بوچھاڑ سے چھلنی ہو گیا مگر ہٹایا نہیں۔ اور دوسری طرف اتنا صبر دکھایا کہ ایک شخص تلوار سے ہلاک کرتا ہے مگر اس کے مقابل پر تلوار نہیں اُٹھاتے۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ ہر حالت میں اللہ تعالی کی خشیت رکھتے تھے اور کبھی اپنے نفس کی بڑائی کا خیال نہیں کرتے تھے۔ پس عجز و انکسار پیدا کرو اور دعاؤں پر بہت زور دو۔ یقیناً یاد رکھو کہ دعا ایک ایسی چیز ہے جس سے