خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 19

خطبات محمود ۱۹ سال ۱۹۳۴ء اس تک اس علاقہ کے لوگ یہ باتیں کرتے ہیں کہ انہیں یہ گھوڑے چرانے کی سزا ملی ہے۔ تو قسم کا رونا کام نہیں دے سکتا۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ آئندہ تم دعا کرتے وقت مت رؤو۔ اگر رونا آتا ہے تو رؤو- میرا مطلب یہ ہے کہ وہ رونا کام آتا ہے جبکہ صرف آنکھیں نہیں بلکہ دل بھی رو رہا ہو۔ کبھی تم نے غور کیا کہ جب تمہیں کوئی حقیقی دُکھ پہنچے تو اُس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوتی ہے۔ تم کمزور ہوتے ہو و ، دشمن تمہیں چھیڑتا ہے اس پر دل میں درد پیدا ہونے کے ساتھ ہی تمہاری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور کہتے ہو الی! ہم کس مصیبت میں پڑ گئے کہ دشمن ہم پر ہنستا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جو انکسار کی کیفیت ہے۔ اسے اپنے اندر پیدا کرو۔ کبھی تم نہیں دیکھو گے کہ سوائے ڈاکو یا ظالم لوگوں کے جب جنازہ جا رہا ہو اور اُس وقت دشمن ستانے لگے تو لوگ جنازہ پھینک کر دشمن کے پیچھے ہولیں۔ بلکہ وہ اُس وقت استغفار کریں گے، اللہ تعالیٰ سے دعائیں کریں گے کہ وہ انہیں دشمنوں کے شر سے بچائے۔ یہی وہ حالت مومن کی ہونی چاہیے۔ اُس کی نگاہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونی چاہیئے۔ صحابہ کو دیکھو ان پر کیا کیا مصیبتیں آئیں مگر سوائے خدا کے ان کی نگاہ اور کسی پر نہیں پڑی۔ قرآن مجید میں آتا ہے کہ صحابہ " جنگ سے اس طرح گھبراتے تھے جیسے موت سے انسان گھبراتا ہے۔ بیشک ان میں نوجوان بھی تھے جو تلواریں لے لیکر جنگ کیلئے نکلتے تھے مگر بہرحال نوجوان تھے۔ تم نے کبھی نہیں پڑھا ہو گا کہ حضرت ابو ابو بکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان " اور حضرت علی " شوق سے تلواریں سونت سونت کر میدان جنگ میں نکلتے ہوں۔ حضرت عمرؓ کو کبھی کبھی جوش آجاتا تھا مگر وہ بھی منافقوں کے متعلق لیکن یہ بات بھی تو انہیں حضرت ابو بکر سے نیچے ہی ثابت کرتی ہے، فوقیت نہیں دیتی۔ کسی تاریخ کی کتاب میں نہیں دیکھو گے کہ صحابه خوشی خوشی رسول کریم ال کے پاس تلواریں لئے آئے ہوں اور آکر کہا ہو يَا رَسُولَ اللہ ! کسی سے لڑائی چھیڑیئے۔ ہمیشہ اُن کی تلواریں میانوں میں ہی رہیں۔ ہاں کچھ نوجوان تھے جو جوش میں تلواریں نکالے پھرتے تھے مگر یہ بات اُن کی اعلیٰ نیکی ثابت نہیں کرتی۔ اگر اعلیٰ نیکی ہوتی تو خلافت کے حقدار وہ کیوں نہ ہوتے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اُن کا اسلام کے رستہ میں اپنی جانوں کو قربان کرنا اور تلواریں لے کر نکلنا ایک نیکی تھا مگر گھٹیا درجہ کی نیکی تھی۔ اصل نیکی وہی تھی جس کا قرآن کریم نے یوں نقشہ کھینچا ہے کہ جس وقت صحابہ جنگ کیلئے نکلتے تو وہ جنگ کرنا اپنے لئے موت سمجھتے۔ اور ان کے دل ڈرتے کہ وہ انسانوں کا