خطبات محمود (جلد 14) — Page 300
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء فضائل بیان کرنے کی طرف توجہ نہ کریں تو کس قدر افسوسناک بات ہوگی ۔ رسول کریم صلی السلام کے متعلق اگر یہ بیان کیا جائے کہ آپ کا رنگ کیسا تھا۔ تو چونکہ رنگ نہیں بدلتا اس لئے اتنا جاننا ہی کافی ہوتا ہے کہ آپ کا رنگ کالا تھا یا گورا لیکن معارف چونکہ زمانے کے تغیر کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ اور ان کے متعلق محنت کرنی پڑتی ہے، اس لئے لوگ اس طرف آنے سے جی چراتے ہیں۔ یا مثلا یہ امر کہ رسول کریم صلی ایام کے بال کندھوں سے اونچے تھے یا نیچے۔ ایک معمولی بات ہے ہر شخص اسے ایک دفعہ بھی سن لے تو یا درکھ سکتا ہے۔ لیکن یہ کہ آپ نے کس کس رنگ میں قربانیاں کیں ، بنی نوع انسان سے آپ کے تعلقات کس قسم کے تھے۔ پھر بنی نوع انسان کے علاوہ ہر فرد سے آپ کا علیحدہ علیحدہ سلوک تھا، زید کا بھی آپ سے تعلق تھا۔ اور اگر ہم غور کریں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ رسول کریم صلی ا السلام نے اس کیلئے بھی کچھ قربانیاں کی ہیں ۔ اسی طرح ہر صحابی کے متعلق غور کیا جا سکتا ہے اور نئی نئی باتیں نکالی جا سکتی ہیں۔ پھر اگر ہم دیکھیں کہ رسول کریم صلی السلام نے کس طرح انسانی فطرت کی گہرائیوں کا مطالعہ کر کے دعا ئیں سکھائیں ہیں۔ اور اس مضمون کے ماتحت قرآن مجید پر غور کیا جائے تو سینکڑوں مضامین سامنے آنے شروع ہو جائیں گے۔ غرض اس طریق کے ماتحت کام کرو اور جب شعر پڑھو تو اچھے شعر پڑھو ۔ اسی طرح اگر خود اشعار بناؤ تو اچھے اشعار بناؤ۔ پرانے لوگوں میں سے بھی بعض نے رسول کریم صلی الا السلام کی مدح میں نہایت اچھے اشعار کہے ہیں۔ اگر ہم ان سے بھی فائدہ اٹھا لیں تو یہ اچھی بات ہوگی۔ میں نے اب کی دفعہ سیرت النبی کے جلسہ کی آمد سے دو دن پہلے یہ بات سنا دی ہے۔ اب بھی اگر جلوس میں اس قسم کے اشعار پڑھے گئے یا تختوں پر مجھے لکھے نظر آگئے تو میں جھنڈے وہیں رکھوالوں گا۔ اور ایسے لوگوں کو جلوس سے الگ کرادوں گا کیونکہ یہ رسول کریم صلی الہ السلام کی ہتک کرنے والی بات ہے۔ آپ کا اصل مقصد توحید کا قیام تھا۔ اس پر جتنا جی چاہے زور دو۔ مگر توحید کے صرف یہ معنے نہیں ہوتے کہ اللہ ایک ہے۔ اگر پتھر ایک ہو تو کیا یہ بڑی خوبی کی بات سمجھی جاسکتی ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ دنیا کے تمام حسن اس ایک خدا کے سامنے بیچ ہیں ۔ جب اس کے سامنے اچھی سے اچھی چیز بھی جاتی ہے تو ماند پڑ جاتی ہے اور اکیلا خدا ہی نظر آتا ہے۔ پس ایک ہونے کا یہ مفہوم ہے کہ وہ تمام صفات حسنہ میں منفرد ہے۔ اور ساری چیزیں اس کے سامنے پھیکی پڑ جاتی ہیں۔ یہی وہ مفہوم ہے جسے دنیا کے ذہن نشین کرنے کیلئے انبیاء آتے ہیں۔ یہ 298