خطبات محمود (جلد 14) — Page 299
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء سوائے ندامت کے اور کچھ حاصل نہ ہو سکتا تھا۔ مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ کہیں باہر گیا۔ تو ایک ہندو مجھ سے ملنے آیا اس نے مجھے اس قدر شرمندہ کیا کہ میں پانی پانی ہو گیا۔ اور گو وہ غیر احمدیوں کا طریق عمل تھا مگر مسلمان ہونے کے لحاظ سے مجھے سخت ندامت ہوئی۔ وہ کہنے لگا مجھے ایک ایسے بندے کی تلاش تھی جو مجھے خدا تک پہنچائے ۔ اس غرض کیلئے میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے پاس گیا۔ اسی دوران میں جب رسول کریم صلی السلام کے حالات معلوم کرنے کیلئے میں مجالس مولود میں پہنچا تو میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی۔ اس کے بعد اس نے وہاں کا ایسا گندہ نقشہ کھینچا کہ میں شرم کے مارے پانی پانی ہو گیا۔ کہنے لگا مجھے وہاں بتایا جانے لگا کہ آپ کی زلفیں ایسی تھیں، آنکھیں ایسی خوبصورت تھیں ، قد اس قسم کا تھا، رنگ اس طرح کا ایسی قد کا تھا کا تھا۔ بھلا مجھے ان باتوں سے کیا۔ اس نے ان باتوں کو اس طرح بنا بنا کر پیش کیا کہ میری آنکھیں اس کے بنا سامنے جھک گئیں۔ اس کی وجہ کیا تھی ؟ یہی کہ لوگوں کے دل میں رسول کریم صلی ایم کی اصل محبت نہیں رہی۔ اگر وہ آپ کے حالات پڑھتے قرآن مجید پر غور کرتے تو وہ ان باتوں کی طرف کبھی نہ جاتے ۔ مگر چونکہ حالات معلوم کرنے اور قرآن مجید پر غور کرنے میں محنت صرف کرنی پڑتی ہے۔ مگر یہ معلوم کرنا اور یاد رکھنا بالکل آسان ہے۔ کہ آپ کا رنگ سفید تھا داڑھی گھنی تھی۔ اس لئے انہی کو بیان کرنا شروع کر دیا۔ یا رسول کریم صلی السلام کے متعلق اس قسم کی من گھڑت کہانیاں سنانی شروع کر دیں۔ کہ ایک گوہ آئی اور اس نے آپ کو سجدہ کیا یا درخت اور پتھر آپ کے سامنے سر بسجود ہو گئے ۔ ایسی کہانیاں چونکہ بچوں تک کو بھی جلد یاد ہو جاتی ہیں۔ اس لئے لوگوں نے رسول کریم صلی السلام کے فضائل اسی رنگ میں بیان کرنے شروع کر دئے ۔ چنانچہ دیکھ لو کسی بچے کو قرآن مجید کی کسی آیت کی تفسیر سمجھاؤ۔ وہ سن لے گا لیکن جب اس سے پوچھا جائے کہ کیا سنا تو کہے گا یا نہیں۔ لیکن اسے کوئی کہانی سنا دو اور تیسرے دن سنا چاہو تو ایک ایک حرف سنا دے گا۔ چونکہ رسول کریم صلی السلام کی قربانیاں آپ کے اخلاق اور آپ کی پاکیزہ زندگی کی کے واقعات معلوم کرنے کیلئے محنت کی ضرورت تھی اور کہانیاں بیان کرنا اور یا درکھنا آسان تھا اس لئے لوگوں نے کہانیاں اور قصے بیان کرنے شروع کر دیئے ۔ پس یہ لوگوں کی سستی اور کوتاہی کا ثبوت ہے، رسول کریم صلی ا یہ تم کی محبت نہیں ۔ اگر ہم بھی رسول کریم صلی السلام کے متعلق اسی قسم کی باتوں میں اُلجھ جائیں اور قرآن مجید سے معارف اور نئے نئے علوم نکالنے اور رسول کریم صلی السلام کے حقیقی 297