خطبات محمود (جلد 14) — Page 283
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء وقت کہا جب ضد ہو گئی وگر نہ شروع شروع میں وہ پاگل ہی سمجھتے تھے۔ آپ کے دعوی کو سنتے ہی عام چرچا شروع ہو گیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت روایت ہے کہ وہ اپنے ایک دوست کے گھر میں بیٹھے تھے کہ ایک لونڈی آئی اور اس نے کہا کچھ سنا ہے۔ آپ نے فرمایا کیا ہوا ؟ اس نے کہا تمہارے دوست محمد (سنی ) کی عقل ماری گئی ہے۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ بات کیا ہے۔اس نے کہا وہ کہتا ہے خدا میرے ساتھ باتیں کرتا ہے، میرے پاس فرشتے آتے ہیں، میں نبی ہوں ۔ حضرت ابو بکر نے سن کر کہا اگر وہ ایسا کہتا ہے تو ٹھیک کہتا ہے۔ اس کے بعد آپ وہاں ٹھہرے نہیں بلکہ فورا آئے اور رسول کریم مالی اسلام کے مکان پر پہنچے۔ رسول کریم صلی السلام اس وقت اندر تھے حضرت ابوبکر نے جب دستک دی تو آپ باہر تشریف لائے ۔ حضرت ابوبکر نے کہا۔ میں نے سنا ہے کہ آپ نے کوئی دعویٰ کیا ہے۔ آپ اس خیال سے کہ ابو بکر پرانا دوست ہے ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھا جائے، کوئی دلیل دینے لگے۔ لیکن حضرت ابوبکر نے کہا مجھے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ۔ آپ صرف یہ بتائیں کہ آپ نے کوئی دعوی کیا ہے یا نہیں ۔ حضرت ابو بکر اگر دلیل سننے کے بعد ایمان لاتے تو مصدق ہوتے ،صدیق کا مقام نہ حاصل کر سکتے ۔ صدیقیت کیلئے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ انسان کے اندر سے آتی ہے۔ اور جب رسول کریم صلی لا السلام نے بتایا کہ ہاں میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو آپ نے فوراً کہا میں اس کا مُصَدِّق ہوں ہے ۔ حضرت خلیفہ اول کا بھی اسی قسم کا واقعہ ہے۔ جو آپ خود سنایا کرتے تھے۔ فرماتے میں جموں میں تھا اور حضرت مسیح موعود خودسنا علیہ الصلوة والسلام اُس وقت توضیح مرام اور فتح اسلام رسائل چھپوا ر ہے تھے۔ ان کا کوئی پروف کسی غیر رہے کا احمدی نے چرایا اور جموں میں لے آیا۔ وہاں اپنے دوستوں سے کہا کہ میں نے اب نور دین کو قابو کرنے کا سامان کر لیا ہے۔ انہوں نے پوچھا کس طرح قابو کر لیا ہے۔ اس نے کہا کہ خواہ کچھ بھی ہو میں یہ جانتا ہوں کہ اس کے دل میں رسول کریم سی ایم کا عشق ضرور ہے۔ اور اب میں نے ایک ایسی بات مرز اصاحب کی پکڑی ہے کہ جس شخص کے دل میں رسول کریم صلی ایام کا عشق ہو وہ انہیں کبھی نہیں مان سکتا ۔ آخر کچھ لوگ ایک دن اکٹھے ہو کر آئے۔ اور اس شخص نے خلیفہ اول سے دریافت کیا کہ رسول کریم ملی پیہم خاتم النبیین ہیں یا نہیں؟ آپ نے کہا ہیں ۔ اُس نے پوچھا آپ کے بعد کوئی رسول آسکتا ہے یا نہیں؟ آپ نے کہا نہیں۔ اس نے کہا اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے؟ آپ نے فرمایا کہ میں سمجھوں گا اس نے السلام 281