خطبات محمود (جلد 14) — Page 282
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء نیک نہیں بن سکتا ۔ اور نہ ہی ایک سے تقویٰ قائم رہ سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ کامل انسان میں یہ دونوں باتیں پائی جائیں۔ اس میں یہ بھی طاقت ہو کہ خواہ کتنی ہی تکلیف دہ بات ہو پھر بھی غلط اثر کو قبول نہ کرے اور یہ بھی چاہئیے کہ خواہ حالات کتنے ہی مخالف کیوں نہ ہوں ۔ پھر بھی اچھی چیز کے اثر کو رد نہ کرے۔ اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا کہ آشدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ جب کسی ایسی چیز کا سوال ہو جو مذہب و دین کے خلاف ہو تو چاہئیے کہ مومن ایک ایسی چٹان کی مانند ہو جس پر کوئی چیز اثر ہی نہیں کر سکتی لیکن جہاں تقویٰ کا معاملہ ہو، وہاں ایسا معلوم ہو کہ وہ قبل از وقت ہی جھک رہا تھا۔ نیکی کا سوال تو بعد میں پیدا ہوا۔ اس کے قبول کرنے کا میلان اس کے اندر پہلے ہی موجود تھا۔ اس درجہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اُس دیئے سے تشبیہ دی ہے جو قریب ہے کہ آگ کے بغیر ہی جل پڑے۔ یہی مقام ہے کہ جب انسان اسے ہر قسم کی ملونی سے پاک کر دیتا ہے۔ تو اسی کو صدیقیت کہتے ہیں ۔ صدیق اور مُصَدِّق میں یہی فرق ہوتا ہے۔ مُصَدِّق تو بعد میں آکر کہتا ہے کہ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں ۔ مگر صدیق میں اس کے قبول کرنے کا میلان پہلے ہی موجود ہوتا ہے۔ یوں تو سب صحابہ مصدق تھے۔ لیکن صدیقیت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھے ہوئے تھے۔ ہمارے زمانہ میں بھی صوفی احمد جان صاحب جو پیر منظور احمد صاحب اور پیر افتخار احمد صاحب کے او والد اور حضرت خلیفہ اول کے خسر تھے، صدیقیت کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی بھی نہ کیا تھا کہ انہوں نے آپ کو ایک خط لکھا جس میں یہ شعر تھا۔ نہ کیانی پکو ایک خط لکھا جس میں یہ عر تھا۔ ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کیلئے ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی نہیں سمجھتے تھے کہ میں مسیح موعود ہوں ۔ مگر انہوں نے کہا کہ آپ ایسا دعویٰ کریں ہم آپ کو ماننے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ۔ یہی صد یقیت کا مقام ہے۔ جب رسول کریم صلی ا ہم نے دعوی کیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کسی قریب یا بعید کے مقام پر باہر گئے ہوئے تھے ۔ آپ کا دعویٰ سن کر لوگ اِدھر اُدھر دوڑ پڑے کہ خبر دیں کہ ایسے اچھے آدمی کو کیا ہو گیا ہے ۔ وہ آپ کو پاگل سمجھنے لگ گئے تھے ۔ جھوٹ تو بعد میں اس 280