خطبات محمود (جلد 14) — Page 250
خطبات محمود مل جاتا تو اس سے لڑائی ہو جاتی ۔ سال ۱۹۳۳ء غرض جو شیلی طبائع جوش کی حالت میں نتائج کو نہیں دیکھتیں۔ پھر بعض دفعہ اُکسانے والے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح فساد ہو جاتا ہے۔ پس میں جہاں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ تبلیغ کے دن کو وفاداری ، دیانتداری ، اخلاص ، تقویٰ اور شجاعت کے ساتھ نباہنا چاہئیے اور اس طرح تبلیغ کرنی چاہئیے کہ گویا تم نے اپنے فرائض کا حق ادا کر دیا۔ وہاں میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ تمہارے جوشوں سے کوئی شخص ناجائز فائدہ اٹھائے ۔ اور یوم التبلیغ بجائے مفید ہونے کے مضر ہو جائے ۔ حضرت خلیفہ اول اپنے ایک عزیز کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ وہ بڑی جو شیلی طبیعت رکھتے تھے۔ ایک دن کوئی رئیس آپ سے ملنے آیا۔ اس کا پاجامہ ذرا لمبا تھا اور ٹخنوں سے نیچے پڑتا تھا۔ نہ معلوم اس نے تبختر کی نیت سے لمبا رکھا ہوا تھا یا لمبا بن گیا تھا۔ جب وہ ملنے کیلئے آیا اور مجلس میں بیٹھ گیا۔ تو فرماتے میرے اس عزیز کے ہاتھ میں مسواک تھی ۔ اس نے وہ مسواک اس رئیس کے پاؤں پر آہستہ آہستہ مارنی شروع کی۔ اور ساتھ ساتھ اس حدیث کے عربی الفاظ دہرانے شروع کر دیئے جس میں آتا ہے کہ وہ تہ بند جوٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے ۔ وہ مسواک مارتا جائے اور کہتا جائے۔ یہ آگ میں ہے، یہ آگ میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں تھوڑی دیر تو وہ رئیس میرے لحاظ سے چپ رہا۔ آخر اسے یہ ذلت محسوس ہوئی کہ محفل میں اس سے یہ سلوک کیا جائے۔ اس نے نہایت ہی غصہ سے کہا۔ تجھے کس بیوقوف نے کہا ہے کہ میں مسلمان ہوں ، میں مسلمان نہیں ۔ وہ جانتا تھا کہ جب تک میں اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہوں یہ حکم مجھ پر جاری رہے گا۔ اس لئے ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ میں اپنے مسلمان ہونے سے انکار کر دوں ۔ یہ ایک چھوٹی سی بات تھی مگر غلط طریق پر پیش کرنے سے اس شخص کو پہلی حالت سے بھی خراب کر دیا۔ تو تبلیغ کے بھی ڈھنگ ہوتے ہیں۔ گو میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ کبھی سختی نہیں ہونی چاہئیے ۔ بعض جگہ اسلام سختی کا حکم بھی دیتا ہے۔ جیسے بعض دفعہ والدین کو بچوں پر ، مردوں کو عورتوں پر اور عورتوں کو خاوندوں پر ایک حد تک سختی کرنے کی اجازت ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے اگر کوئی مرد تہجد کیلئے اُٹھے اور اسے اپنی بیوی کے منہ پر پانی کا چھینٹا ڈال کر جگانا پڑے تو اس طرح اسے تہجد کیلئے جگائے ۔ اسی طرح اگر بیوی کی آنکھ کھل جائے تو وہ بھی پانی کا چھینٹا ڈال کر خاوند کو جگا سکتی ہے۔ ۵۔ گویا ایک حد تک دونوں کو ایک دوسرے پر سختی کی اجازت ہے۔ پھر 248