خطبات محمود (جلد 14) — Page 249
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء حضرت عمرؓ کی بھی بڑی جو شیلی طبیعت تھی۔ جب بھی کوئی ناپسندیدہ بات دیکھتے فور اتلوار لے کر کھڑے ہو جاتے۔ اور رسول کریم صلیا ایلیم سے عرض کرتے۔ اجازت ہو تو سر کاٹ دوں ۔ تو بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جن میں جوش ہوتا ہے۔ وہ مخلص ہوتے ہیں مگر طبیعت کا جوش انہیں غلط راہ پر چلا دیتا ہے۔ پھر کئی شرارتی بھی ہوتے ہیں جو ہم میں مل جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح لڑائی کرا دیں۔ مجھے یاد ہے قادیان میں ایک دفعہ میں گھر کے اس کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا جوگی کے اوپر واقع ہے کہ یکدم مجھے شور کی آواز سنائی دی۔ میں نے دیکھا تو کچھ لوگ پرانے بازار کی طرف بھاگے جا رہے ہیں۔ میں نے آواز دی کہ کیا ہوا مگر انہوں نے نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوبارہ آواز دی مگرانہوں مگر انہوں نے پھر کوئی جواب نہ نہ دیا۔ یہاں تک کہ وہ نصف گلی تک پہنچ گئے ۔ میں نے پھر آواز دی۔ تو مولوی رحمت علی صاحب جو اب جاوا میں مبلّغ ہیں ، اُس وقت طالب علم تھے کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اطلاع آئی ہے کہ نیر صاحب کو بازار میں ہندوؤں نے مار دیا ہے۔ اور کئی احمدیوں کو بھی زخمی کر دیا ہے۔ میں نے کہا اگر نیر صاحب کو ہندوؤں نے مار دیا ہے اور یا دس ہیں احمدیوں کو مجروح کر دیا ہے۔ تو اس پر کوئی کاروائی کرنا میرا کام ہے تمہارا نہیں ۔ تم آگے مت جاؤ۔ میرے اس کہنے پر وہ کھڑے تو ہو گئے مگر میں نے دیکھا کہ وہ اور دوسرے لڑکے غصہ سے اس طرح تھر تھر کانپ رہے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کے جسم کی ہر ایک بوٹی جوش غضب کے نیچے ہے۔ تھوڑی ہی دیر ٹھہرے ہوں گے۔ کہ بے اختیار وہ پھر دوڑ پڑے۔ میں نے پھر آواز دی مگر انہوں نے نہ سنی ۔ پھر پکارا تو انہوں نے پھر بھی نہ سنا۔ یہاں تک کہ وہ اس موڑ پر پہنچ گئے۔ جہاں پہلے درد صاحب رہتے تھے۔ میں درد نے اُس وقت سمجھا۔ اگر اب بھی یہ نہ رُکے تو میری نظر سے اوجھل ہو جائیں گے۔ اور پھر ان کا رُکنا ناممکن ہوگا۔ اس لئے میں نے کہا۔ اگر ایک قدم بھی تم نے آگے بڑھایا تو میں تم سب کو جماعت سے خارج کر دوں گا۔ میرے اس کہنے پر وہ رک گئے ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ایک غیر شخص دوست بن کر آیا۔ وہ کہنے لگا نیر صاحب مارے گئے ہیں۔ اور دس ہیں احمدی ہندو بازار میں تڑپ رہے ہیں ۔ حالانکہ نیر صاح صاحب اُس وقت گھر میں آرام سے بیٹھے تھے۔ اور باقی احمدیوں میں سے بھی کوئی شخص وہاں نہ تھا۔ اور نہ کسی ۔ سانہ پر حملہ ہوا تھا۔ محض جھوٹ کسی نے یہ بات اُڑا دی تا کہ سنتے ہی احمدی لڑ پڑیں اور مخالف مقدمہ دائر کر دیں کہ احمدی فساد کرتے ہیں۔ اگر میں ان کو روک نہ دیتا تو بازار میں پہنچنے سے پہلے اگر رستہ میں ہی کوئی ہندو 247