خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 235

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کہتے ہو تو یہ اس کی غلطی ہوگی ۔ اور کوئی شخص اس کی بات کی معقولیت تسلیم نہیں کرے گا۔ کیونکہ پہلے آنہ پیسے کے مقابل میں تھا اس لئے بڑا تھا ۔ مگر اب آنہ چوٹی کے مقابل ہے اس لئے چھوٹا ہے۔ اسی طرح اگر ایک شخص کا ایک طرف ایک روپیہ ضائع ہوتا ہو اور دوسری طرف چوٹی تو ہم کہیں گے چوٹی کو چھوڑ اور روپیہ کا خیال رکھو ۔ اس پر بھی اگر کوئی شخص کہے کہ ابھی چوٹی کو تم بڑا کہ رہے تھے اور اب اسے چھوٹا قرار دیتے ہو تو ہم اس کو بھی قابل رحم سمجھیں گے۔ کیونکہ پہلے چوٹی آنے کے مقابل تھی ، اس لئے بڑی تھی۔ اور اب چوٹی کا روپیہ سے مقابلہ ہے، اس لئے چھوٹی ہو گئی۔ پھر ایک روپے کا اگر دس بیس چالیس یا پچاس روپوں سے مقابلہ ہو تو ایک روپیہ چھوٹا ہو جائے گا اور دس بیس روپے بڑے۔ غرض کسی چیز کو چھوٹا قرار دینا اپنی ذات کو میں کی چیز چھونا دینا اپنی میں بالکل بے معنی امر ہے۔ چھوٹا اور بڑا ہونا نسبتی طور پر ہوتا ہے۔ دنیا میں کوئی چیز چھوٹی نہیں اور کوئی چیز بڑی نہیں۔ ہر چھوٹی چیز کے مقابلہ میں بڑی چیز ہے اور ہر بڑی چیز کے مقابل میں ایک چھوٹی ہے۔ پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ بڑی چیز کیلئے چھوٹی چیز کو قربان کر دو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دونوں کا موازنہ کرو۔ اور دیکھو کہ ان دونوں میں سے کس کو چھوڑ نا چاہئے اور کسے رکھنا چاہئے ۔جس کو رکھنا ہوگا ، وہ بڑی ہوگی۔ اور جسے چھوڑ نا ہوگا وہ چھوٹی ۔ پس کسی ایک چیز کو بڑا یا چھوٹا کہہ دینا غلطی ہے دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ دو چیزوں میں سے کون سی چیز چھوٹی ہے اور کون سی بڑی۔ یہ نہیں کہ ہر حالت میں وہ چھوٹی ہوتی ہے اور ہر حالت میں دوسری چیز بڑی ۔ پس یہ تو صحیح ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز کے مقابلہ میں قربان کر دینا چاہئے۔ لیکن یہ صحیح نہیں کہ کوئی چیز معین طور پر چھوٹی ہے۔ اور کوئی چیز معین طور پر بڑی۔ ہر چیز نسبت کے وقت آ کر چھوٹی بھی ہو جائے گی اور بڑی بھی ۔ مثلاً نماز کے وقت کی پابندی ایک بہت بڑی چیز ہے۔ مگر رسول کریم صلی السلام نے ایک دفعہ جہاد کے دوران تین نمازوں کو جمع کر کے پڑھا۔ ظہر کا وقت آیا اور گزر گیا ۔ عصر کا وقت آیا اور گزر گیا ۔ پھر مغرب کے وقت آپ نے تینوں نمازیں جمع کرائیں ۲۔ اور بعض لوگوں کے نزدیک تو رسول کریم صلی الم نے تین سے بھی زیادہ نمازیں جمع کرائیں ۔ حالانکہ اگر کسی وجہ سے ظہر و عصر کی نمازیں جمع کی جائیں تو جائز ہوتا ہے۔ لیکن عصر و مغرب کا جمع کرنا نا جائز ہے۔ اور ظہر و عصر اور م مغرب کا جمع کرنا تو بالکل ناجائز ہے لیکن لڑائی کے دوران میں نماز وں کے اوقات چھوٹے 233