خطبات محمود (جلد 14) — Page 234
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء فتنہ پیدا ہوگا۔ بالکل خلاف اصول ہے۔ کیونکہ ہماری جماعت کا بہت بڑا حصہ اسی تبلیغ کے ذریعہ احمدی بنا۔ بلکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم میں سے ہر فرد خواہ وہ نوجوان ہی کیوں نہ ہو، ایسے ہی خیالات اور حالات میں سے گزرا ہے جو تبدیلی مذہب کے وقت پیدا ہوتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا باپ احمدی ہے تو ماں مخالف ہوتی ہے۔ اور اگر ماں باپ دونوں احمدی ہوں تو کئی قریبی رشتہ دار ایسے ہوتے ہیں جو مخالف ہوتے ہیں۔ اور جن کی وجہ سے وہ حالات جو تبدیلی مذہب پر پیدا ہوتے ہیں ، اس پر بھی وارد ہو جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسے بچے نکل آتے ہیں جو غیر احمدی ہوتے ہیں ۔ کہیں ماموں کہیں ماموں کے بیٹے کہیں ساس اور کہیں سٹر غیر احمدی ہوتے ہیں، کہیں بہنوئی مخالف ہوتے ہیں۔ غرض اس کے قریبی رشتہ داروں میں ایسے مخالف ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کشمکش میں پڑ چکا ہوتا ہے جس میں از سر نو مذہب اختیار کرنے والا پڑتا ہے۔ پس ہم میں سے جو پیدائشی احمدی ہے وہ بھی تو احمدی ہے کیونکہ نواحمدی کے دل میں جو کشمکش پیدا ہونی چاہئیے وہ اس کے دل میں بھی پیدا ہو چکی ہوتی ہے پس ہم میں سے کوئی شخص پرانا احمدی نہیں۔ اول تو کثیر حصہ وہ ہے جو پہلے اپنے آپ کو غیر احمدی سمجھتا تھا پھر تبلیغ کے ذریعہ احمدی ہوا۔ دوسرے جو احمدیت میں پیدا ہوا وہ بھی دل میں ایک کشمکش اختیار کر چکا ہے۔ پس اگر یہ تبلیغ فتنہ ہے تو ہم میں سے ہر شخص اس فتنہ سے گزر کر آیا ہے۔ اور اس طرح ہمارا وجود ٹانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ لیکن اس غلطی سے قطع نظر کر کے اصل سوال کو لیتے ہوئے میں سمجھتا ہوں ۔ ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے پاس کوئی بڑی بات ہے یا نہیں ۔ کیونکہ میرے نزدیک بڑی اور چھوٹی چیز کی بحث ایک ایسی بحث ہے جسے کسی معین صورت میں طے نہیں کیا جا سکتا۔ میں اس اصل کو تسلیم کرتا ہوں اور ہر شخص کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ بعض چھوٹی باتیں اتحاد عمل کیلئے قربان کر دینی چاہئیں ۔ مگر چھوٹی اور بڑی بات سب نسبتی امور ہیں ۔ اگر کسی شخص کا ایک طرف ایک پیسہ ضائع ہو رہا ہو اور دوسری طرف آنہ۔ تو ہم کہیں گے کہ پیسے کو چھوڑو اور آنے کا خیال رکھو ۔ اس وقت پیسہ چھوٹی چیز ہوگی اور آنہ بڑی لیکن اگر ایک طرف آ نہ ضائع ہو رہا ہو اور دوسری طرف چونی ۔ تو ہم کہیں گے کہ آنے کو چھوڑو اور چوٹی کی فکر کرو ۔ اس وقت ہم آنے کو چھوٹا قرار دیں گے اور چونی کو بڑا ۔ اب کوئی نادان کہے کہ ابھی تو تم نے آنے کو بڑا کہا تھا اور ابھی چھوٹا 232