خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 197

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء تھا حالانکہ ہم چندہ دیتے ہیں ۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے تو آخری موت سے انکار کیا تھا ورنہ انہوں نے اپنے مکان چھوڑ دیئے ۔ اپنے بھاری اسباب چھوڑ دیئے اپنا وطن چھوڑ دیا۔ اپنے دوست چھوڑ دیئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہا گویا جائداد کا نصف حصہ سے زیادہ قربان کر دیا۔ کیونکہ غیر منقولہ جائداد منقولہ کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ پس یہ خیال کرنا غلطی ہے کہ ان لوگوں نے قربانی نہیں کی وہ تو ہمارے بہت سے چندہ دینے والوں سے بڑھ کر تھے۔ انہوں نے تو صرف آخری پیالہ جو صاف موت کا پیالہ تھا پینے سے انکار کیا، ورنہ چندہ تو انہوں نے خوب دیا۔ کیونکہ اپنا وطن، اپنے مکان ، اپنی زمینیں اور اپنے بھاری اسباب سب خدا کیلئے چھوڑ دیئے ۔ پس جب خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ انہوں نے موت قبول نہیں کی تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک موت قبول کرنا ان قربانیوں سے بڑھ کر کوئی چیز ہے۔ پس ہمیں بھی وہم دور کر کے موت کیلئے تیار ہو جانا چاہئے ورنہ زبانی دعوے پاگلوں کی بڑ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ (الفضل ۳ ستمبر ۱۹۳۳ء) ل البقرة : ۲۴۴ المائدة : ٢٥ سے بخاری کتاب مناقب الانصار باب مناقب الانصار البقرة : ۲۴۴ ف البقرة : ١٣٠ ت ال عمران : ۱۵۵ بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى اذ تستغيثون ربكم الخ ه عمدة القاري في شرح البخاری جلد ۱۷ صفحه ۸۰ ، ۸۱ مطبوعه مكتبة الرشيدية الطبعة الأولى کوئٹہ پاکستان ف البقرة : ٢٤٤ 195