خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 196

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء سے سلوک اس کی اپنی ہمت کے مطابق ہوتا ہے۔ کبھی اپنی کوشش سے یہ بچ جاتی ہے۔ کبھی ہلاک ہو جاتی ہے۔ ہماری جماعت سے بھی خدا تعالیٰ نے زندگی کا وعدہ کیا ہے۔ اس لئے ہمیں بھی پہلے موت کا پیالہ پینا ہوگا۔ کیونکہ آدم سے لے کر اب تک خدا تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ زندگی حاصل کرنے سے پہلے موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ لوگ جاہل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سے زندگی کا پیالہ دینے کا وعدہ ہے، ہمیں زندگی کا پیالہ ہی ملنا چاہئے ورنہ خدا تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا ہے، اب خواہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا وطیرہ اختیار کرو یا محمد صلی السلام کی قوم کا بہر حال تمہیں موت کا پیالہ پینا ہوگا۔ اگر تم اپنے ہاتھ سے وہ پیالہ پی لو تو تم ہمیشہ کیلئے زندہ رہو گے۔ لیکن اگر خدا کے ہاتھ سے پیو تو تم کم سے کم چالیس سال تک کی موت تمہیں نصیب ہوگی ۔ نادان ہیں ہم میں سے وہ جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں زندگی کے پیالہ کا وعدہ ہے آسمانی اصطلاح میں زندگی کے پیالہ سے مراد موت کا پیالہ لے کر زندگی کا نصیب ہونا ہوتا ہے اب یہ بات تمہارے اختیار میں ہے کہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح موت کا پیالہ پینے سے انکار کر دو یا محمد صلی السلام کے صحابہ کی طرح موت کا پیالہ قبول کر لو اور ہمیشہ کی زندگی لے لو۔ یہ بھی یاد رکھو کہ یہ کافی نہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنے متعلق فیصلہ کر لے کہ وہ کس قوم کی طرح ہوگا ۔ خدا کا فیصلہ کثرت پر ہوگا۔ تم میں سے اکثر جس قوم کی طرح ہوں گے ویسا ہی تم سے سلوک کیا جائے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں بھی اور نہیں تو کم از کم حضرت موسیٰ “ اور حضرت ہارون علیہ السلام ایسے تھے جو محمد صلی السلام کی قوم کی طرح تھے مگر ان سے بھی ویسا ہی سلوک کیا گیا جیسا دوسروں کے ساتھ ۔ اُن کو بھی حکومت نہ دی گئی اور وہ بھی وہیں فوت ہو گئے ۔ ان کے بعد حضرت یوشع کو حکومت ملی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دعوی کے وقت ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے یا ابھی کمسن تھے۔ اور ان میں سے نہیں تھے جنہوں نے موت کا پیالہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ جماعت میں سے کثرت کس طرف ہے؟ اگر تم میں رسول کریم صلی ا یہ کام کے ساتھیوں کی طرح کے لوگ زیادہ ہیں، تو تم میں سے کمزور بھی بچ جائیں گے۔ جیسے رسول کریم صلی سی پی ایم کے ساتھ کمزور بھی فتح یاب ہوئے تھے۔ اور اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح کے لوگوں کی کثرت ہے۔ تو پھر ان کو بھی جو محمدصلی السلام کی قوم کی طرح ہیں ، موت قبول کرنا ہو گی ۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے قربانی سے انکار کر دیا 194