خطبات محمود (جلد 13) — Page 625
خطبات محمود ۶۲۵ سال ۱۹۳۲ء فورا روانہ ہو گیا۔ لیکن میرے آنے تک بہت حد تک انہیں صحت ہو گئی تھی۔ پھر جلدی ہی اللہ تعالٰی کے فضل سے انہیں کامل صحت ہو گئی۔ اس کے چند ہی دنوں بعد مولوی عبدالستار صاحب بیمار ہو گئے اور مجھے ان کی بیماری کی اطلاع پہنچی۔ گو میں اس عرصہ میں ان کی صحت کے لئے دعا ئیں ضرور کرتا تھا مگر دل میں خدشہ تھا کہ اس خواب سے مراد ا نہیں کی وفات نہ ہو اور اب جبکہ وہ فوت ہو چکے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہ رڈیا انہیں کے متعلق تھی جو پوری ہو گئی۔ جب کوئی شخص ایسا فوت ہوتا ہے جو مقبول الہی ہو تو اس کی وفات کا زمین و آسمان پر اثر ضرور پڑتا ہے۔ حدیثوں میں بھی اس قسم کا مضمون آتا ہے کہ جب مومن بندے کی جان نکلنے کا وقت آتا 6 ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کو بہت تردد ہوتا ہے۔ تر دو اور پھر اللہ تعالی کا تردد یقینا زمین و آسمان کو ہلا دینے وا والا ہوتا ہے۔ میں نے ذکر کیا تھا کہ بعضوں ن ۔ کے لئے الہام ٹھوکر کا موجب ہو جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں سے کئی لوگ ایسے ہیں جو الہام کو اپنی شہرت کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں اور اس طرح انہیں ٹھوکر لگ جاتی ہے۔ مگر مولوی عبدالستار صاحب کو کثرت سے الہامات ہوتے تھے۔ باوجود اس کے کہ انہوں نے کبھی الہامات کو اپنی بڑائی کا ذریعہ نہ بنایا ۔ خلافت کی اطاعت اور سلسلہ کے نظام کا احترام ان کے اندر پورے طور پر پایا جاتا تھا اور وہ ہمیشہ اپنے آپ کو سلسلہ کا جزو سمجھتے تھے۔ میں نے انہیں دیکھا کہ اگر چہ وہ عبادات کی کثرت اور صحت کی کمزوری کی وجہ سے منحنی اور کمزور رہتے تھے مگر جب کبھی کوئی ایسا واقعہ ہوا جس میں غیروں سے مقابلہ کی ضرورت پیش آئی وہ با وجود کمزوری کے جوانوں کی طرح وہاں پہنچ جاتے۔ ابھی پچھلے دنوں میری موجودگی میں سکھوں سے جب فساد ہوا تو ایک نوجوان پٹھان نے بتلایا کہ میں کمرے سے کوئی چیز تلاش کر رہا تھا۔ مولوی صاحب کہنے لگے کیا کام ہے۔ میں نے کہا کہ سکھوں سے احمدیوں کی لڑائی ہو گئی ہے۔ آپ اس وقت بیمار اور سخت کمزور تھے یہ سنتے ہی گھبرا کر چارپائی پر ملنے لگ گئے اور کہنے لگے پھر تم یہاں کیا دیکھ رہے ہو جلدی کیوں نہیں جاتے۔ تو وہ اپنے آپ کو نظام سے بالا نہیں سمجھتے تھے۔ جیسا کہ میں نے حضرت خلیفہ اول کی ایک مثال کا ذکر کر کے بار ہا بتایا ہے کہ بعض لوگ اپنے آپ کو نمبردار سمجھ لیتے ہیں۔ میں نے ان میں ہمیشہ یہ خوبی دیکھی کہ و و وه اطاعت اور سلسلہ کے نظام کا احترام پوری طرح ملحوظ رکھتے۔ پٹھانوں کے لئے تو ان کا وجود ایک نعمت غیر مترقبہ تھا۔ وہ انہیں پڑھایا کرتے اور وہی لڑائی جھگڑے کے موقع پر انہیں نصیحت کرتے اور سمجھاتے۔ غرض بغیر اس کے کہ افغانستان سے آنے والے احمدیوں کی خبر گیری کے لئے ہمیں