خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 624 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 624

خطبات محمود ۶۲۴ سال ۱۹۳۲ء سے کچھ معلوم ہو تو اس سے مجھے مطلع کریں۔ دو تین دن کے بعد انہوں نے مجھے جواب دیا اگر چہ میں نے انہیں کچھ نہیں بتایا تھا کہ میرے دل میں کیا مقصد ہے آیادہ میرا ذاتی کام ہے یادینی اور اگر دینی ہے تو کیا ہے ؟ لیکن جواب میں اول تو انہوں نے مختلف الہامات لکھے جو سارے کے سارے تبلیغ کے متعلق تھے اور پھر ایک رویا لکھی کہ ایک میدان میں تمام لوگ کھڑے ہیں اور میں انہیں کہتا ہوں کہ دنیا میں تبلیغ کرو۔ مفتی محمد صادق صاحب بھی وہیں ہیں۔ پھر لکھا آپ نے یہ کہنے کے بعد مفتی صاحب کو کسی پہاڑی سرد علاقہ میں تبلیغ کے لئے بھیج دیا۔ گویا جو تبلیغ کا نقشہ میرے ذہن میں تھا وہ خدا تعالی نے ان کو سارے کا سار ا بتا دیا ۔ پھر جزئیات بھی بتا دیں جو اب تک پوری ہو رہی ہیں۔ چنانچہ مفتی محمد صادق صاحب کو عرصہ تک باہر تبلیغ کے لئے میں نے بھیج دیا اور اب بھی پہاڑوں پر انہیں مختلف کاموں کے لئے بھیجنا پڑتا ہے۔ بعض اور امور میں بھی میرا ان کے متعلق تجربہ ہے مگر اس واقعہ کا میرے دل پر خاص اثر ہے۔ اس زمانہ میں مجھے تبلیغ کی کمی کا اس قدر احساس تھا اور میرے دل پر اس قدر اثر تھا کہ وہ دیوانگی کی حد کو پہنچا ہوا تھا۔ یہ رویا میرے لئے بہت امید افزا ثابت ہوئی۔ اور پھر خدا تعالی نے تبلیغ کے لئے راستے کھول دیئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مولوی صاحب کا بہت بڑا درجہ تھا۔ ان کی وفات سے دو اڑھائی مہینے پہلے کی بات ہے میں نے ڈلہوزی میں ایک رؤیا دیکھا کہ کوئی شخص نہایت گھبرائے ہوئے الفاظ میں کہتا ہے دوڑو دوڑو قادیان میں ایک ایسا شخص فوت ہوا ہے جس کے فوت ہونے سے آسمان اور زمین ہل گئے ہیں۔ جب میری نظر اٹھی تو میں نے دیکھا واقعی آسمان ہل رہا ہے اور مکان بھی ہل رہے ہیں۔ گویا ایک زلزلہ آیا ہے۔ میرے قلب پر اس کا بڑا اثر ہوا۔ میں گھبرا کر پوچھتا ہوں کہ کون فوت ہوا ہے تو کوئی شخص تسلی دینے کے لئے کہتا ہے۔ ہندوؤں میں سے کوئی فوت ہوا ہو گا۔ میں نے کہا ہندوؤں میں سے کسی کے فوت ہونے کے ساتھ آسمان اور زمین کے ملنے کا کیا تعلق وہ کہنے لگا ہندوؤں کا زمین و آسمان ہل گیا ہو گا۔ اس وقت جیسے کوئی شخص تسلی حاصل کرنے کے لئے ایسے الفاظ پر مطمئن ہونا چاہتا ہے ، میں بھی مطمئن ہونا چاہتا ہوں۔ مگر پھر گھبراہٹ میں کہتا ہوں چلو دیکھیں تو سہی۔ اسی گھبراہٹ میں تھا کہ آنکھ کھل گئی۔ اس رڈیا کے سات آٹھ دن کے بعد تار پہنچا کہ حضرت اماں جان سخت بیمار ہیں۔ اس وقت تار کے پہنچنے پر میں نے بعض دوستوں کو جن میں ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور غالبا مولوی شیر علی صاحب بھی تھے بتایا کہ میں نے اس طرح رویا دیکھا ہے جس کی وجہ سے مجھے گھبراہٹ ہے شاید اس ۔ اس سے مراد حضرت اماں جان ہی ہوں۔ با میں