خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 464

خطبات محمود الداله 56 دوسروں کی اصلاح کے لئے گداز اور سوز پیدا کرد (فرموده ۲۷- مئی ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ اللہ تعالٰی نے کچھ قوانین بنائے ہیں اور وہ قوانین اپنے بندوں کے انتظام کی درستی اور ان کے حالات کی اصلاح کے لئے دنیا میں جاری کئے ہیں۔ ان قوانین اور اس آئین کو مد نظر رکھے بغیر کبھی دنیا میں اصلاح نہیں ہو سکتی۔ نادان انسان اپنی جہالت کی وجہ سے خدا تعالٰی کے قانون کو ناقص سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میری تدبیریں ہی مجھے کامیاب بنائیں گی۔ مگر وہ صرف عنکبوت کی طرح اپنے لئے گھر بناتا ہے۔ اور جس طرح عنکبوت اپنے گھر میں آپ ہی پھنس کر مر جاتی ہے۔ اسی طرح وہ بھی اپنی تدبیروں میں آپ ہی اُلجھ کر رہ جاتا ہے۔ تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک اللہ تعالی کے بنائے ہوئے قوانین کی نگہداشت نہ کی جائے اور جب تک ان کے مطابق عمل نہ کیا جائے دنیا میں کبھی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ ہمارے ہندوستان کے لوگ تو اپنے علم اور عقل میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ یورپ جس نے اپنے خیال میں علم کا انتہائی مقام حاصل کر لیا ہے اور جس کے بعض افراد اپنے غرور کی وجہ سے یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ وہ خدا کی خدائی کو بھی باطل کر دیں گے۔ وہ بھی اپنی تدبیروں کے جال میں پھنس رہا ہے۔ اور اپنی عقل کے ہاتھوں سخت تنگ آ رہا ہے۔ اور ان نقصانات کی وجہ سے جو اس کی کوششوں کی وجہ سے ظاہر ہوئے ، وہ حیرت سے اس دنیا کو جو اس نے اپنے ہاتھوں تیار کی تھی قرآن مجید کے الفاظ میں کہہ رہا ہے وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا کھا اس دنیا کو کیا ہو گیا۔ میں نے کیا کیا تدبیریں اس کی درستی کے لئے کیں۔ کتنے عجیب و غریب طریق اس کو مناسب حال بنانے کے لئے