خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 463

خطبات محمود ۶۳ سال ۱۹۳۲ء نہیں ہو گا بلکہ تم سے یہی پوچھا جائے گا کہ تم نے کیا کیا۔ پس لوگوں کے پیچھے نہ چلو، بلکہ نیکی کے پیچھے چلو ۔ اللہ تعالٰی نے بھی قرآن مجید میں یہی بتایا ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان اور کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی نے بے شک رسول کریم میں اسلام کو ہمارے لئے اسوہ حسنہ بنایا ۔ مگر جواب دہی کے متعلق رسول کریم مسلم نے فرما دیا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا آپ ذمہ دار ہوگا ۔ سے پس اپنے نفس کی اصلاح کرو اور اس کا طریق یہی ہے کہ تم دوسروں کے عیوب نہ دیکھو بلکہ اپنے عیب دیکھو۔ تم دوسروں کے عیب دیکھنے کی وجہ سے قیامت کے دن بخشے نہیں جاؤ گے ۔ بلکہ تمہاری خوبیاں ہی تمہارے کام آئیں گی۔ اگر تم اپنی یہ حالت بنالو کہ دوسرے کے عیب نہ دیکھو بلکہ اس کی خوبیاں دیکھو اور اپنی خوبیاں نہ دیکھو بلکہ غیب دیکھو تو وہ دن تمہارے لئے عید کا دن ہو گا۔ مگر جب تک تم دوسروں کے عیب دیکھتے رہو گے اور جب تک تم اپنے عیوب کو دیکھنا پسند نہیں کروگے، اس وقت تک جنت کا دروازہ تمہارے لئے بند رہے گا۔ کیونکہ کوئی شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ دوسروں کے عیب دیکھتا رہتا ہے۔ اور کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے عیوب کی اصلاح نہیں کرتا۔ پس تمہیں اپنے عیوب نظر آنے چاہئیں اور دوسروں کی خوبیاں۔ اگر تم ایسا کر دو گے تو تمہارے مقاصد کی نوعیت ہی بدل جائے گی۔ بے شک یہ کام آسان نہیں بلکہ بہت مشکل ہے۔ لیکن اگر ایک دفعہ انسان عزم کرنے کہ میں نے دوسرے کی خوبیاں ہی دیکھتی ہیں تو یہ مشکل بھی آسان ہو جاتی ہے۔ میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے بڑوں کو بھی اس امر کی توفیق دے کہ وہ اپنے پیچھے نیکیاں چھوڑ جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ نیکیاں تو اپنے ساتھ لے جائیں اور بدیوں کا بیج اپنی قوم کے لئے چھوڑ جائیں۔ - (الفضل ۲۶- مئی ۱۹۳۲ء) ا ترمذی ابواب الإيمان باب فيمن يموت ولا يشهد ان لا اله الا الله لسفينة الاولیاء مصنفه دارا شکوه صفحه ۷۳ بخاری کتاب النكاح باب المراة راعيه في بيت زوجها