خطبات محمود (جلد 13) — Page 223
خطبات محمود 25 حقیقی ایمان اور یقین نبی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے (فرموده ۱۷- جولائی ۱۹۳۱ء) سال ۱۹۳۱ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ خدا تعالی کے انبیاء ایمان کے قیام کے لئے دنیا میں مبعوث ہوا کرتے ہیں، دلائل دنیا میں موجود ہوتے ہیں ، بحثوں کے سامان کافی سے زیادہ ہوتے ہیں، منطق کے اصول دنیا کو بھولے نہیں ہوتے اور فلسفہ نے ہمیشہ اپنی حکومت اس عالم میں قائم رکھی ہے مگر باوجود اس کے دنیا ایک چیز سے محروم ہو جاتی ۔ ہو جاتی ہے، ایک چیز سے خالی اور تہی دست ہو کر رہ جاتی ہے اور وہ یقین اور اطمینان ہے۔ دنیا میں کلام ہوتا ہے لیکن اس کی تأثیر اُڑ جاتی ہے، باتیں ہوتی ہیں مگر ان کا سوز جاتا رہتا ہے، دل ہوتے ہیں مگر وہ محبت سے خالی ہوتے ہیں ، آنکھیں نظر آتی ہیں مگر نور بصارت ان سے مفقود ہو جاتا ہے تب اللہ تعالی اپنے رحم اور خاص فضل سے آسمان سے ایک نورا تارتا ہے۔ وہی ازلی ابدی نور جو ہمیشہ اس کی مخلوق کی راہنمائی کے لئے اترتا ہے گو اس وقت وہ ایک نئی شکل اور نیا بجسم اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے ذریعہ اللہ تعالی لوگوں کے قلوب میں ایمان اور یقین پیدا کرتا ہے۔ پھر شک اور شبہ کی زندگی مٹادی جاتی ہے اور جلن اور سوزش جو انسانی قلوب محسوس کر رہے ہوتے ہیں ٹھنڈک سردی اور اطمینان سے بدل جاتی ہے۔ یہی واقعہ آج سے تیرہ سو سال سال پہلے دنیا میں ظاہر ہوا جبکہ ساری دنیا میں تاریکی پھیلی ہوئی تھی، جبکہ ساری دنیا میں بے اطمینانی پھیلی ہوئی تھی، جبکہ ساری دنیا میں بے ایمانی پھیلی ہوئی تھی، جبکہ ساری دنیا میں بد اعتقادی اور بد خیالی پھیلی ہوئی تھی ، یقین دنیا سے مٹ چکا تھا اور شک و شبہات نے دلوں میں گھر کر لیا تھا اس تاریکی کے زمانہ میں ایسے شک وشبہ کے زمانہ میں خدا تعالٰی نے رسول کریم مسلم کو مبعوث