خطبات محمود (جلد 12) — Page 502
خطبات محمود ۶۲ سال ۱۹۳۰ء بعض اہم امور کے متعلق خاص طور پر دعائیں کی جائیں (فرمودہ ۷۔ نومبر ۱۹۳۰ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنی مختلف صفات کو مختلف اوقات میں ظاہر کرتا رہتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے کہ افطِرُ وَ اصُومُ لا یعنی میں کبھی افطار کرتا ہوں اور کبھی روزہ رکھتا ہوں ۔ کھانے پینے کا تو خدا تعالیٰ محتاج نہیں اس لئے اس الہام کے یہی معنی ہیں کہ بعض صفات کو بعض زمانوں میں خدا تعالیٰ جاری کرتا ہے اور بعض کو روک لیتا ہے جاری کرنے کا نام افطار اور بند کر دینے کا نام اس نے روزہ رکھا ہے۔ اور اس کی تمام صفات کے متعلق ہم یہی دیکھتے ہیں کسی وقت تو وہ جاری ہو رہی ہوتی ہیں اور کسی وقت ان میں روزہ کی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض ایام میں تو وبائیں آتی ہیں اور ہر طرف صفایا کر دیتی ہیں اور دوسرے وقت اولا دیں اِس کثرت سے پیدا ہوتی ہیں کہ ملک کی آبادی بہت بڑھ جاتی ہے اور لوگوں کو یہ فکر لاحق ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ کھائیں گے کہاں سے ۔ غرض افطار و صوم کا سلسلہ ہر شاخ میں نظر آتا ہے اور اسی کے ماتحت کسی زمانہ میں تو ایسی ہوا چلتی ہے کہ لوگوں کی صحت بہت اچھی ہو جاتی ہے اور کبھی ایسی ہوا چلتی ہے کہ لوگوں کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔ مؤمن کا قاعدہ ہے کہ صوم کے زمانہ میں یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی صفات کو روک لیتا ہے زیادہ دعائیں کرے کیونکہ روزہ سے دعا کا خاص تعلق ہے ۔ جس طرح بندہ جب روزہ رکھتا ہے تو اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ دعا ئیں کرے اسی طرح اللہ تعالیٰ جب روزہ رکھتا ہے تو وہ دعا ئیں قبول کرتا ہے کیونکہ ہر اک اپنی شان