خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 501

خطبات محمود ۵۰۱ سال ۱۹۳۰ء نہیں کہتا۔ اس پر حافظ صاحب نے کہا کہ پھر میں تو آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا اور یہ جھگڑا چلتا رہا۔ دوسرے موقع پر وہ قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کے متعلق ذکر آیا ۔ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ حافظ صاحب نے کہا وہ صحیح ہے۔ جب انسان خود اپنے آپ کو متقی نہ سمجھتا ہو تو خدا کیوں سمجھے گا۔ پس چاہئے کہ انسان پہلے اپنے آپ کو متقی بنانے کی کوشش کرے اور پھر اپنے آپ کو متقی سمجھے لیکن کوشش بہت ضروری ہے۔ مؤمن اور متقی دراصل ایک ہی نام ہے لوگ یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اللہ کے فضل سے مؤمن ہیں مگر اپنے آپ کو متقی کہنے سے وہ ڈرتے ہیں ۔ یا د رکھنا چاہئے کہ اصل میں یقین ہی ہے جو انسان سے کام کرواتا ہے اس کے بغیر کامیابی محال ہے۔ اسے اپنے دل سے نکال دو تو تم محض ایک قشر اور چھلکا ہی رہ جاؤ گے لیکن اگر تقویٰ اپنے اندر پیدا کرو تو اگر قشر بھی رہ گئے ہو گے تو پھر تمہارے اندر روح پیدا ہو جائے گی کیونکہ اصل چیز بیچ ہی ہے اس لئے اسے اپنے اندر پیدا کرنے ا اندر پیدا کرنے اور محفوظ رکھنے کی کوشش رکھنے کی کوشش کرو۔ چھلکا اگر جل بھی چکا ہو تو پھر پیدا ہو جاتا ہے ظاہری قشر تلف ہو کر پھر پیدا ہو جاتے ہیں لیکن اگر جان نکل جائے تو اسے کوئی واپس نہیں لا سکتا۔ انسان کے اندر خدا تعالیٰ نے قابلیتیں پیدا کی ہیں چاہئے کہ وہ انہیں استعمال کرے اور محنت کرے لیکن ساتھ ہی یقین اپنے دل میں پیدا کرے کہ میرے کاموں میں خدا تعالی میرا مددگار ہو گا اور جب اُس نے بچے دین کو اختیار کیا ہے تو ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اسے کامیاب نہ کرے۔ الفاتحة: ٢ الفاتحة : ۴ ( الفضل ۲۱ اکتوبر ۱۹۳۰ء ) الفاتحة : ٥ مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۳۱۵