خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 302

خطبات محمود ۳۰۲ سال ۱۹۳۰ء لانے والا تھا لیکن انہیں یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ ممکن ہے کہ وہ انبیاء ایک ہی خاندان کی طرف مبعوث کئے گئے ہوں۔ اس خاندان کے دس افراد ہوں جن میں سے ایک ایمان لے آیا ہو۔ یا وہ کسی خاص گاؤں کی طرف ہوں جس کی آبادی صرف ہزار افراد کی ہو اور ان میں سے دس مانتے والے ہوں ۔ یہ ضروری نہیں کہ جن انبیاء کو ایک شخص نے مانا وہ کروڑوں کی طرف مبعوث ہوئے ہوں ۔ وہ ا۔ وہ ایک خاندان کی طرف ما رف مبعوث ہوئے ہوں گے اور اس ہوں گے اور اگر اس میں سے ایک نے بھی مان لیا تو انہوں نے دین قائم کر دیا۔ مؤمن بھی انبیاء کے اتباع ہوتے ہیں اس لئے انہیں بھی چاہئے پوری کوشش سے دین کو قائم کرنے کی کوشش کریں ۔ i ہدایت جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا منشاء ہوتا ہے کہ وہ پھیلے اس لئے اس پھیلانے والوں کی تائید کے لئے فرشتے کھڑے ہوتے ہیں۔ تبلیغی کام کو ترقی دینے کیلئے میں نے اس سال اشتہارات کا سلسلہ جاری کیا تھا۔ پہلے میری خواہش تھی کہ وہ پچاس ہزار شائع ہوں بعد میں میرا خیال صرف تیس ہزار کا ہی تھا پھر بھی دوستوں نے ساٹھ ہزار منگوائے ہیں۔ لیکن جہاں میرے اندازہ سے دُگنی تعداد میں انہوں نے اشتہار خرید کئے ہیں وہاں یہ ابھی تک نہیں بتایا کہ ان ہدایات پر جو اس کے متعلق دی گئی تھیں کہاں تک عمل کیا ہے اور نہ ابھی تک یہ بتایا ہے کہ ان کو ترتیب سے تقسیم بھی کیا گیا ہے یا نہیں اور نہ ہی اگلے اشتہار کے متعلق مشتہر ہ شرائط کو پورا کیا ہے اس لئے اگلے اشتہار کی اشاعت میں تاخیر ہو رہی ہے۔ بعض لوگوں نے جنوری میں تبلیغ کے لئے بہت کوشش کی اور اس مہینہ بیعت کرنے والوں کی تعداد کافی تھی لیکن فروری میں پھر تعداد کم ہو گئی ممکن ہے یہ رمضان کی وجہ سے ہو۔ لیکن احادیث بھی میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ رمضان کے مہینہ میں بہت صدقہ دیا کرتے تھے اور آپ کی مثال تیز آندھی کی طرح ہوتی تھی سے اور دین کی تبلیغ سے ، اسے بہتر صدقہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ یوں ؟ مشہور ہے کہ بھوکا شیر زیادہ لڑا کرتا ہے اس لحاظ سے بھی رمضان میں تبلیغ زیادہ ہونی چاہئے تھی مگر افسوس ہے دوستوں نے کم توجہ کی۔ یا پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ انہوں نے روزے نہیں رکھے کیونکہ اگر رکھتے تو بھو کے شیر کی طرح زیادہ جوش دکھاتے اور تبلیغی حلقہ کو زیادہ وسیع کرتے مگر فروری میں جنوری سے کمی آگئی ہے۔ اب یہ رمضان کا آخری عشرہ ہے احباب کو کوشش کر کے اس کمی کو پورا کر دینا چاہئے ۔ احمدیت کی صداقت اب اس قدر واضح اور نمایاں ہو چکی ہے اور