خطبات محمود (جلد 12) — Page 301
خطبات محمود ۳۰۱ سال ۱۹۳۰ء آپ لوگ سوچیں کبھی اللہ تعالیٰ سے نگرانی کے لئے عرض بھی کی ہے۔ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں ہم نیک کام کر رہے ہیں ہمیں کسی کی کیا پرواہ ہے لیکن یہ بات غلط ہے۔ پر واہ ہونی چاہئے ہر انسان کو دوسرے کی پرواہ ہوتی ہے۔ گو یہ علیحدہ بات ہے کہ کسی کی احتیاج اپنے فائدہ کے لئے اور کسی کی دوسروں کے فائدہ کے لئے ہوتی ہے مگر احتیاج ہوتی سب کو ہے۔ انبیاء کو شریعت نافذ کرنے کے لئے اتباع کی احتیاج ہوتی ہے غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا سب محتاج ہیں ۔ پس اھد کہنے والے کو یہ تین باتیں ماننی پڑتی ہیں۔ اس سے آگے جب وہ اِهْدِنَا کہتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ نہ صرف مجھے یہ باتیں عطا کر بلکہ میرے ساتھیوں کو بھی دے۔ لیکن اگر ہم اس اہدایت ہدایت کو کو جو جو پہلے ہی ہمارے۔ ے پاس ہے ، اور اور جو جو خدا تعالیٰ نے نے ہمیں دے دے رکھی ہے اپنے شہر والوں، محلہ والوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو نہیں پہنچاتے اور انہیں اس سے مستفیض نہیں کرتے تو پھر کس منہ سے خدا تعالیٰ سے ان کے لئے اور ہدایت طلب کر سکتے ہیں۔ ایک شخص کے بیوی بچے بھوکے مر رہے ہوں اور وہ بادشاہ یا کسی امیر سے ان کے کھانے کے لئے سوال کرے اور جو کچھ وہ دے اسے لے جا کر طاق میں رکھ چھوڑے اور بچوں کو نہ دے تو اگلے دن اور کیلئے وہ کس طرح سوال کر سکتا ہے اور دینے والا کیوں اسے کچھ دے گا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت ہمیں دی ہے اگر اگر وہ دوسروں کو ہم نے پہنچا دی ہے تو ہما راحق ہے کہ اور بھی مانگیں لیکن اگر پہلی ہی نہیں پہنچا سکے تو ہماری یہ دعا کبھی قبول نہیں ہو سکتی ۔ آپ لوگ سوچیں آپ میں سے کتنے ہیں جو اس ہدایت کو دوسروں تک پہنچا رہے ہیں ۔ کم از کم نصف ایسے ہوں گے جن کو دوسروں کی فکر نہیں اور پھر کئی تو ایسے بھی ہیں جنہیں اپنی بھی فکر نہیں۔ اگر سالہا سال گذر جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ ایک شخص بھی احمدی نہیں ہوتا تو پھر کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ وہ مزید ۔ ایت دوسروں کے لئے طلب کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔ یہ نا ممکن وہ مزید ہدایت ہے کہ اگر ہم پیچھے پڑ جائیں تو کامیابی نہ ہو۔ جس چیز کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکیلے کامیاب ہو گئے اور ایسے وقت میں کامیاب ہوئے جب تمام دنیا جان کی دشمن ہو رہی تھی اور کوئی جماعت بھی ایسی نہ تھی جس کا دوسروں پر کچھ اثر ہو سکے تو آج اگر کوشش کی جائے تو کیوں کامیابی نہ ہو۔ پس یہ نا ممکن ہے کہ ہم ہدایت کے لئے انھیں اور کامیاب نہ ہوں ۔ ممکن ہے بعض لوگ کہہ دیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے بعض انبیاء ایسے گزرے ہیں جن پر صرف ایک ہی ایمان