خطبات محمود (جلد 11) — Page 125
سال 1927ء ۱۲۵ خطبات محمود کسی پر جبر نہ کرتا تھا۔ اسے محض اس لئے ہندو بد نام کر رہے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں انگریزوں کے خلاف بولنا آسان نہیں۔ اس لئے اپنی قوم کو ابھارنے اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال دلانے کے لئے انہوں نے اور نگ زیب کو پکڑ لیا ہے۔ کیونکہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ ورنہ اگر ان ہندوؤں کے باپ دارے قبروں سے اٹھ کر بیٹھ جائیں۔ تو وہ اقرار کریں کہ اورنگ زیب کے زمانہ میں انہوں نے نہایت امن سے زندگی بسر کی۔ افسوس ہے کہ وہ بادشاہ جس نے ہندوؤں کی عزت و آبرو کی حفاظت کی۔ اسی پر لگار آج ہند و الزام لگا رہے ہیں۔ اور جس نے ان پر اور جس نے ان پر بڑے احسان کئے اس کی ناشکری کر رہے ہیں۔ حالانکہ جو کچھ اس کے متعلق کہا جا رہا ہے وہ بالکل غلط ہے ۔ باقی رہی یہ بات کہ اورنگ زیب سارے ہندوؤں کو مسلمان نہ بنا سکا تو تم کس طرح بناؤ گے اس کے لئے یاد رکھنا چاہئے اورنگ زیب بادشاہ تھا تبلیغ اسلام سے اسے کیا تعلق تھا۔ تبلیغ کا کام ہمارا ہے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اورنگ زیب نے ہندوستان میں تبلیغ کی۔ تو یہ کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے ہندوستان سے باہر بھی تبلیغ کے متعلق کچھ کیا۔ مگر میں نے ہندوستان سے باہر بھی بہت سے ممالک میں تبلیغ اسلام کی ہے۔ مثلاً اس وقت مغربی افریقہ میں ہزار ہا ایسے لوگ مسلمان ہیں۔ جو میرے بھیجے ہوئے مبلغوں کے موجود ذریعہ مسلمان ہوئے۔ ہوئے۔ اسی طرح یورپ میں کلمہ پڑھنے والے انسان موجود ہیں۔ امریکہ میں ۔ ہیں۔ کیا اورنگ زیب نے بھی اپنے زمانہ میں ان ممالک کے لوگوں کو مسلمان کیا۔ اس کا کام ملکی معاملات کی اصلاح اور درستی تھا۔ اور تبلیغ کا کام میرا ہے۔ اس لئے اورنگ زیب نے اپنی فوجوں کے ذریعہ ملکوں کو فتح کیا اور اپنے دشمنوں کو مغلوب کیا جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن روحانی فتح کا جھنڈا بلند کرنے والا میں ہوں۔ اس لئے وہ میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں تک میرے ذریعہ اسلام کی تبلیغ کی گئی ہے اور نگ زیب کے ذریعہ نہ کی گئی۔ پھر کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ تم وہ کام نہ کر سکو گے ۔ جو اورنگ زیب نہ کر سکا۔ کم از کم ہندو اس بات کا تو اقرار کریں گے کہ اور نگ زیب نے ہندوستان سے باہر تبلیغ اسلام کے متعلق کچھ نہیں کیا۔ اور میں تو کہتا ہوں۔ ہندوستان میں بھی اس نے کچھ نہیں کیا۔ ہندوؤں نے اس زمانہ میں فساد کئے ۔ ان فسادوں کو اس نے دور کیا۔ باقی ان پر کوئی جبر نہیں کیا۔ بلکہ ان کی حفاظت کی۔ دیکھو کس طرح بار بار سیوا جی نے شرارتیں کیں اور کس طرح اورنگ زیب نے اس ڈاکو اور لٹیرے کو بار بار معاف کیا۔ جس کی اخلاقی حالت اس درجہ گری ہوئی تھی کہ صلح کرنے کے لئے جاتا ہے اور بغل میں خنجر چھپا کر لے جاتا ہے۔ جسے بغل گیر ہوتے وقت افضل خان کے پیٹ میں گھیر دیتا ہے۔ غرض اور نگ زیب