خطبات محمود (جلد 11) — Page 124
سال 1927ء ۱۲۴ خطبات محمود مونجے یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہندو بنالو۔ ذرا غور تو کرو جب آریہ کہتے ہیں عرب میں دیدک دھرم کا جھنڈا گاڑیں گے ۔ تو اس سے فتنہ نہیں پیدا ہوتا۔ لیکن جب امام جماعت احمد یہ کہتا ہے کہ ہندوؤں کو مسلمان بنا لو تو کہا جاتا ہے اس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر میں نے یہ کہا ہو تاکہ لوگوں کو جبرا مسلمان بناؤ ۔ ان سے لڑو انہیں مارو تو اس سے فتنہ پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوؤں پر اسلام کی سچائی ظاہر کر کے اسلام میں داخل کرو ۔ تو اس میں فتنہ کی کون سی بات ہے۔ اگر اس سے فتنہ پیدا ہو سکتا ہے تو پھر شدھی کے متعلق ہندوؤں کے اقوال سے کیوں فتنہ نہیں پیدا ہوتا۔ پھر جتنے مصلح آئے وہ چند لوگوں کو منوانے کے لئے آئے تھے ۔ یا ان سب کو جن کی طرف وہ بھیجے گئے جب بابا نانک آئے تو ان کی غرض چند ایک لوگوں کو ہدایت دینا تھی یا سب کو ۔ اسی طرح جب کرشن آئے تو ان کا منشا سارے ہندوستان کو اپنی تعلیم پر کار بند کرنا تھا یا ہندوستان کے ایک حصہ کو۔ اسی طرح جب رام چندر آئے تو ان کا مقصد سارے ہندوستان میں اپنی تعلیم پھیلانا تھایا تھوڑے حصہ میں۔ یا جب دیدوں کے رشی آئے تو وہ سارے ہندوستان کے لئے تعلیم لائے تھے یا چند لوگوں کے لئے ۔ ہاں منو کو یہ شبہ ضرور ہوا ہے کہ دیدوں کی تعلیم سب ہندوستانیوں کے لئے نہیں تھی۔ کیونکہ انہوں نے کہا ہے اگر شود روید کا کوئی منتر سن پائے تو اس کے کان میں سیسہ پکھلا کر ڈالنا چاہئے ۔ باقی سب لوگوں کا یہی خیال رہا ہے کہ سچائی سب کو سننی چاہئے۔ رام چندر کرشن گرونانک کا یہی عقیدہ تھا۔ اسی طرح میرا بھی یہی عقیدہ ہے ۔ اب کوئی اس میں فساد دیکھتا ہے تو یہ اس کی آنکھ کا تصور ہے میرا قصور نہیں ہے۔ ہندو ہیرلڈ کا نامہ نگار سب کو مسلمان بنانے کا ذکر کرتا ہوا لکھتا ہے۔ بھلا جس کام کو اورنگ زیب جیسا بادشاہ نہ کر سکا اسے تم کس طرح کر لو گے ۔ بندہ خدا اورنگ زیب کی ہستی ہی کیا تھی میرے سامنے ۔ اورنگ زیب بادشاہ تھا اور دنیا کا بادشاہ تھا وہ دنیا کی بہتری کے لئے جو کچھ کر سکتا تھا وہ اس نے کیا میں ایک مصلح کا خلیفہ ہوں۔ اگر آج اورنگ زیب زندہ ہو یا اور خدا تعالیٰ حق کی شناخت کے لئے اس کی آنکھیں کھول دیتا تو وہ بھی میرے ماتحتوں میں اسی طرح کام کرتا جس طرح اور کر رہے ہیں۔ میرے مقابلہ میں اورنگ زیب کا ذکر کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ جبر سے لوگوں کو مسلمان بنایا کرتا تھا۔ جب اسے بادشاہ ہو کر جبر میں کامیابی نہ ہوئی۔ تو تمہیں کیا ہو سکتی ہے ۔ مگر یہ غلط ہے کہ اورنگ زیب لوگوں کو جبرا مسلمان بنایا کرتا تھا۔ یہ صرف وہی لوگ وہی لوگ کہتے ہیں جو آر یہ ہیں یا آریوں کے پیچھے چلتے ہیں ورنہ تاریخوں سے ثابت ہے کہ وہ نہایت منصف اور عادل بادشاہ تھا۔ آریہ