خطبة اِلہامِیّة — Page 54
خطبه الهاميه ولد اردو ترجمہ اقتضى رحم الله نور ـور السماء السماء ۔ فانا ہو۔ سو میں وہ نور ہوں اور وہ مجدّد ہوں کہ جو خدا ذالک النور و المجدد المأمور تعالیٰ کے حکم سے آیا ہے اور بندہ مدد یافتہ ہوں اور والعبد المنصور والمهدی وہ مہدی ہوں جس کا آنا مقرر ہو چکا ہے اور وہ مسیح المعهود والمسيح الموعود ہوں جس کے آنے کا وعدہ تھا اور میں اپنے رب وانی نزلت بمنزلة من ربي لا سے اس مقام پر نازل ہوا ہوں جس کو انسانوں 19 يعلمها احد من الناس۔ وان سری میں سے کوئی نہیں جانتا اور میرا بھیدا کثر اہل اللہ حاشیہ ۔ یہ جو حدیثوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود نازل ہوگا یہ نزول کا لفظ اس اشارہ کیلئے اختیار کیا گیا ہے کہ وہ زمانہ ایسا ہو گا کہ تمام زمین پر تاریکی چھا جائے گی اور دیانت اور امانت اور راستی زمین پر سے اٹھ جائے گی ۔ اور زمین ظلم اور جور سے بھر جائے گی ۔: ظلم اور جور سے بھر جائے گی ۔ تب خدا آسمان سے ایک نور نازل کرے گا اور اس سے زمین کو دوبارہ روشن کر دے گا۔ وہ اوپر سے آئے گا کیونکہ نور ہمیشہ اوپر کی طرف سے آتا ہے اور مسیح موعود کا وقت ایسا وقت بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت اشاعت اسلام کے تمام اسباب معطل ہو جائیں گے اور مسلمانوں کے دونوں ہاتھ درماندہ ہو جائیں گے کیونکہ خدا کی غیرت اس بات کو چاہے گی کہ اس اعتراض کو اٹھاوے اور دفع اور دور کرے جو کہا گیا ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ سے پھیلایا گیا پس مسیح موعود کے وقت کے لئے یہ حکم ہے کہ تلواروں کو نیام میں کریں اور مذہب کے لئے کوئی شخص تلوار نہ اٹھائے اور اگر اٹھائے گا تو کافروں سے سخت شکست اٹھائے گا اور ذلیل ہوگا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کی جماعت جن کو انہوں نے مصر سے نکالا تھا ایسی لڑائیوں میں ہمیشہ مغلوب ہوتی رہی جن لڑائیوں کے لئے موسیٰ کے منشاء کے برخلاف انہوں نے پیش قدمی کی۔ سو اب بھی ایسا ہی ہوگا کیونکہ مسیح موعود کا ۱۹ آسمان سے نازل ہونا اسی رمز سے قرار دیا گیا ہے کہ اس کا ہاتھ زمینی اسباب کو نہیں چھوئے گا۔ اور وہ محض آسمان کے پانی سے اسلام کے باغ کی آبپاشی کرے گا۔ کیونکہ اب خدا تعالیٰ اس معجزہ کو دکھلانا چاہتا ہے کہ اسلام اپنے شائع ہونے میں تلوار اور انسانی اسباب کا محتاج نہیں ۔ پس جو شخص با وجود اس صریح ممانعت اور موجودگی حدیث يَضَعُ الْحَرُبَ کے پھر تلوار اٹھاتا ہے اور غازی بنا چاہتا ہے گویا وہ ارادہ کرتا ہے کہ اس معجزہ کو مشتبہ کر دے جس کا ظاہر کرنا خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے یعنی بغیر انسانی اسباب کے اسلام کو زمین پر غالب اور محبوب الخلائق بنادینا۔ منہ