خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 172

خطبه الهاميه ۱۷۲ اردو ترجمہ الفوق من غير تدبير المدبّرين ۔ بارش کی طرح فرشتوں کے بازوؤں پر كأن المسيح ينزل كالمطر من ہاتھ رکھ کر آسمان سے اُترے گا انسانی السماء واضعا يديه على أجنحة تدبیروں اور دنیاوی حیلوں کے بازوؤں 191 الملائكة لا على أجنحة حِيَلِ پر اس کا ہاتھ نہ ہوگا ۔ اور اس کی دعوت الدنيا والتدابير الإنسانية، وتَبْلُغُ اور حجت زمین میں چاروں طرف بہت دعوته وحجته إلى أقطار الأرض جلد پھیل جائے گی اس بجلی کی طرح جو ایک بأسرع أوقات كبرق يبدو من سمت میں ظاہر ہو کر ایک دم سے سب طرف جهة فإذا هي مشرقة في جهات چمک جاتی ہے۔ یہی حال اس زمانہ میں بقية الحاشية ۔ الكريم ۔ اعنى في بقيه ترجمه - سورۃ تحریم میں اور وہ فرمان الہی سورة التحريم ۔ و هو قوله تعالى یہ ہے۔ وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتِي وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَنَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ روحنا بلا شبہ روح سے یہاں مراد عیسی بن مریم مِنْ رُوحنا ۔ ولاشك ان المراد من الروح ههنا عيسى ابن مريم۔ ہیں۔ چنانچہ آیت کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فحاصل الآية ان الله وعد انه يجعل وعدہ فرمایا کہ اس امت میں مسیح بن مریم کو لوگوں میں أخشى الناس من هذه الامة مسيح سے سب سے زیادہ خشیت اختیار کرنے والا بنائے گا ابن مريم و ينفخ فيه روحه بطريق اور اس میں اپنی روح بروزی رنگ میں ڈالے گا اور یہ البروز فهذه وعد من الله في صورة تمثیلی صورت میں مسلمانوں میں سب سے زیادہ متقی المثل لأتقى الناس من المسلمين کے لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے پس غور کر کس طرح اللہ فانظر كيف سمى الله بعض افراد هذه الامة عيسى بن مريم ولا تكن نے اس امت کے بعض افراد کو عیسی بن مریم کے نام من الجاهلين۔ منه سے موسوم کیا ہے اور جاہلوں میں سے نہ بن ۔ لے اور عمران کی بیٹی مریم کی ( مثال دی ہے) جس نے اپنی عصمت کو اچھی طرح بچائے رکھا تو ہم نے اس ( بچے) میں اپنی روح میں سے کچھ پھونکا۔ (التحریم : ۱۳)