خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 125

خطبه الهاميه ۱۲۵ اردو ترجمہ اور اس کو ستایا اور قرآن میں اس کی العلام هم اليهود الذين فرطوا يهودی مراد ہیں جنہوں نے عیسی کے في أمر عيسى رسول الله معاملہ میں نا انصافی کی اور اس کو کافر کہا الرحمن، وكفروه وآذوه ولعنوا على لسانه في القرآن، و زبان پر لعنت کئے گئے ۔ اور اسی طرح تم کذالک من شابههم منكم میں سے وہ جو مسیح آخر الزمان کی تکفیر اور بتكفير مسيح آخر الزمان وتكذيبه وإيذائه باللسان، زبان سے اس کی تکذیب اور ایذا اور اس ۱۲۳ والتمني لقتله ولو بالبهتان، كما کے قتل کی آرزو کی وجہ سے ان یہودیوں ضالين أنتم تفعلون ۔ والمراد من قوله سے مشابہ ہو گئے اور سے مراد الضَّالِّينَ النصارى الذين أفرطوا نصاری ہیں جو عیسی علیہ السلام کے بارہ في أمر عيسى وأطرء وه وقالوا إن الله هو المسيح وهو ثالث ثلاثة يعنى الثالث الذي يوجد میں حد سے گزر گئے اور کہا کہ مسیح ہی خدا ہے اور وہ تین میں سے ایک ہے ایسا کہ دونوں اس کے وجود میں موجود ہیں فيه الثلاثة كما هم يعتقدون ۔ الحاشية - إنَّ لفظ المغضوب عليهم ترجمه - لفظ مغضوب علیہم ضالین کے لفظ کے مقابل قد حذى لفظ الضالین اعنی واقع میں ہے یعنی وہ لفظ اس لفظ کے مقابل پڑا ہے جیسا ذالك بحذاء هذا كما لا يخفى علی کہ دیکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں ۔ پس قطع اور یقین المبصرين۔ فثبت بالقطع و اليقين ان سے ثابت ہو گیا کہ مغضوب علیہم وہ لوگ ہیں جنہوں مغضوب عليهم هم الذين فرطوا فی امر نے حضرت عیسی کے بارے میں تفریط کی اور کافر عيسى۔ بالتكفير والايذاء والتوهين قرار دیا اور دکھ دیا اور اہانت کی ۔ اور ضالین سے وہ كما ان الضالين هم الذين آفرطوا لوگ مراد ہیں جنہوں نے حضرت عیسی کے بارے میں افراط کیا اور ان کو خدا قرار دے دیا۔ منہ في امره باتخاذه رب العالمين۔ منه