خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 308
خطابات شوری جلد سوم ۳۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء رڈ شدہ تجاویز کی وجوہ بھی بتانی چاہئیں جن تجاویز کو صدرانجمن احمد یہ نے جن جانور کو میں اہم ہے سے روکا ہے اس میں میں کوئی شبہ نہیں کہ کہ اُن کا کا روک دینا ہی مناسب تھا تھا۔ یہ لیکن محض یہ کہہ دینا کہ صدر انجمن احمدیہ کی رائے میں اُن کا تعلق مجلس شوری سے نہیں ، کافی نہیں تھا ، صدرانجمن احمد یہ کو بتانا بتانا چاہیے تھا ہیے تھا کہ اُس نے کن وجوہ کی بناء پر ان تجاویز کورڈ کیا ہے مثلاً اگر یہ کہا جاتا کہ چونکہ ایجنڈا بہت لمبا ہے اور وقت کم ۔ اس لئے اُن کو اگلی مجلس مشاورت میں پیش کیا جائے گا تو ایک معقول بات تھی ۔ صرف یہ کہہ دینا کہ ان کا صدرانجمن احمد یہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، دلوں کو تسلی نہیں دے سکتا سوال یہ ہے کہ وہ ضرورت جو پیش کی گئی تھی ۔ ضرورت حصہ تھی یا نہیں۔ پھر اگر تو اس کا تعلق صدر انجمن احمد یہ کے ساتھ تھا تو اُس کا اعلان کر دینا چاہیے تھا کہ معاملہ محکمہ متعلقہ کے سپرد کر دیا گیا ہے اور وہ اس کے علاج کے لئے تیار ہو اور اگر اُس کا مشاورت کے ساتھ تعلق تھا تو اُسے کہنا چاہیے تھا کہ اُس نے ان امور کو شورٹی کے سامنے رکھ دیا ہے اور اگر بے تعلق تھا تو اُس کی بے تعلقی کے وجوہ کو بیان کرنا چاہیے تھا ۔ درحقیقت وہ تمام امور جو ہماری جماعت کے ساتھ تعلق رکھنے والے سمجھے جاتے ہیں چار قسم کے ہیں :۔ اول : وہ جن کا ہماری جماعت کے ساتھ حقیقتاً کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ اس صورت میں بے تعلقی کی وجہ بیان ہونی چاہیے ۔ دوم : وہ جن کا تعلق مجلس شوری کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ایسے معاملات شورٹی کے سامنے پیش کرنے چاہیے۔ سوئم : ایسے معاملات جن کا تعلق صدرانجمن احمد یہ کے ساتھ ہو۔ ایسے معاملات کا صدرانجمن احمد یہ کو فیصلہ کرنا چاہیے ۔ چہارم: ایسے معاملات جو نہ تو صدر انجمن احمد یہ سے تعلق رکھتے ہیں ، نہ شوری سے، بلکہ صرف خلافت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ۔ ایسی صورت میں صدرانجمن احمد یہ کو بتانا چاہیے کہ وہ معاملہ خلیفة المسیح کے سامنے رکھا گیا ہے ۔ غرض ہر رنگ میں صدر انجمن احمد یہ کو اپنا رویہ الگ الگ ظاہر کرنا چاہیے اگر جماعت کے ساتھ کسی معاملہ کا تعلق نہیں ۔ مثلاً کوئی سیاسی مسئلہ ہو تو اُسے بیان کرنا چاہیے کہ اس کا جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ اور اگر کسی XXXXXXXX