خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 307

خطابات شوری جلد سوم ٣٠٧ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء ( منعقده ۲۶ ، ۲۷ مارچ ۱۹۴۸ء بمقام رتن باغ لاہور ) پہلا دن جماعت احمدیہ کی اٹھائیسویں مجلس مشاورت مورخہ ۲۶ اور ۲۷ مارچ ۱۹۴۸ء کو بمقام رتن باغ لاہور منعقد ہوئی دعا کے بعد حضور نے مختصر سا افتتاحی خطاب فرمایا۔ فاتحہ کے بعد ف افتتاحی خطاب نمائندگان کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ اب کام کا وقت ہے باتوں کا وقت نہیں ہے وہ زمانہ گذر چکا جب ہم اپنا کچھ وقت باتوں میں بھی صرف کر دیا کرتے تھے اب ہم میں سے وہی شخص جماعت کا ایک مفید جزو بن سکتا ہے جو اپنے اوقات کو پوری طرح خدا تعالیٰ اور اسلام کی خدمت میں لگا دیتا ہے ۔ ہم میں سے جو لوگ اپنے اوقات کو اپنے نفس کے لئے خرچ کرنا چاہتے ہیں انہیں یاد رہے کہ اب وہ دن آ رہے ہیں جب کہ واقعات خود انہیں مجبور کر دیں گے کہ وہ جماعت سے الگ ہو جائیں اور اپنی بد عملی کی وجہ سے جماعت کی بدنامی کا موجب نہ بنیں ۔“ دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن ۲۷ مارچ ۱۹۴۸ء کو مکرم پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے جب وہ تجاویز سنائیں جو مجلس مشاورت میں پیش کرنے کے لئے آئی تھیں لیکن صدرانجمن نے اُن کو رد کر دیا تو حضور نے فرمایا :-