خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 122

خطابات شوری جلد سوم ۱۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء چودہ سو صفحات پر مشتمل ہو گی تیار کر کے دے دیں گے۔ تفسیر کبیر کی اشاعت تفسیر کبیر کے آخری پارہ کا مضمون ساڑھے سات سو صفحات تک تیار ہو چکا ہے۔ اب صرف آخری ربع باقی ہے۔ مجلس شوری کے ہو بعد اپریل میں یا مئی کے مہینہ میں یہ ربع بھی انشاء اللہ ہو جائے گا اور اس سال تفسیر کبیر کے آخری پارہ کی جلد انشاء اللہ چھپ جائے گی ۔ پریس کی دقتوں کی وجہ سے اب تک صرف ۱۸۰ صفحات چھپ سکتے ہیں۔ لیکن اب چونکہ پریس اپنا خرید لیا گیا ہے اس لئے آئندہ ان شاء الله مضمون ساتھ کا ساتھ چھپتا چلا جائے گا۔ تفسیر کا یہ آخری پارہ انشاء اللہ عنقریب شائع جائے گا اور دس بارہ روپے اس کی قیمت ہو گی اور گو یہ صرف ایک پارہ کی تفسیر ہو گی مگر اندازاً ایک ہزار صفحہ کی جلد ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تفسیر اس زمانہ کے لحاظ سے بہت مفید معلومات اپنے اندر رکھتی ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت کے متعلق اس پارہ میں زبردست پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں اور تبلیغ کے لئے یہ ایک بہت ہی مفید ہتھیار ثابت ہوگا ۔ جماعت کو چاہئے کہ اس کی خریداری کا حلقہ وسیع کرنے کی کوشش کرے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے اب تک صرف سو دو سو آدمیوں نے خریداری کے لئے نام لکھوایا ہے۔ تفسیر کبیر کی پچھلی جلد تین ہزار چھپی تھی جس میں سے ۲۳ سو کتاب جماعت نے خریدی اور سات سو غیروں نے خریدی۔ اب یہ حالت ہے کہ وہی کتاب جو چھ چھ روپے کو فروخت کی گئی تھی قادیان میں اس کی ایک ایک جلد پچیس پچیس روپے پر بھی فروخت ہوئی ہے بلکہ پرسوں ہی میرے پاس عراق سے ایک خط آیا جسے پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ۔ وہاں ایک احمدی ڈاکٹر ہیں انہوں نے کہا کہ مجھ سے تفسیر کبیر ایک غیر احمدی ڈاکٹر نے پڑھنے کے لئے لی تھی ۔ کچھ عرصہ کے بعد اُن کا تبادلہ ہو گیا اور میں نے اپنی کتاب واپس لے لی۔ اُنہیں معلوم ہوا کہ ایک اور احمدی کے پاس یہ کتاب ہے۔ چنانچہ وہ غیر احمدی ڈاکٹر اُس کے پاس گئے اور ایک سو روپیہ میں انہوں نے یہ کتاب اُس سے خرید لی۔ گویا وہی کتاب جس کے لئے پانچ یا چھ روپے دینے بھی جماعت کو مشکل معلوم ہو رہے تھے اور تین ہزار میں سے صرف ۲۳ سو جماعت نے خریدی، سو سو روپیہ پر فروخت ہو رہی ہے۔ حالانکہ قرآن کریم کی تفسیر تو ایسی قیمتی چیز ہے کہ اگر یہ آٹھ دس ہزار کی تعداد میں چھپے تب XXXX