خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 121

خطابات شوری جلد سوم ۱۲۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۵ء کر دیا ہے اور بیرون ہند کی تبلیغ کو تحریک جدید کے ماتحت کر دیا ہے اور میں نے ہدایت دے دی ہے کہ صدرا لہ صدر انجمن احمد یہ اپنے موجودہ بیرون ہند کے بجٹ تحریک جدید کے سپرد کر دے اور تحریک جدید اپنے ہندوستانی مبلغین اور اُن کے بجٹ کو صدر انجمن احمد یہ کے سپرد کر دے۔ ساتھ ہی میں نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرونی جماعتوں کے بجٹ سوائے ہندوستانی جماعتوں کے جیسے نیروبی ہے فارن مشنوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہی استعمال کئے جائیں اور ہر ملک کا روپیہ اُسی ملک کی تبلیغ پر خرچ ہو، یہاں تک کہ بیرونی مشن خوب مضبوط ہو جائیں مگر تحریک جدید کے ماتحت وہاں کے مقامی لوگوں کو خود خرچ کر لینے کا اختیار نہ ہو۔ اگر وہ روپیہ اُن کی ضروریات سے بڑھ جائے گا تو بیشک صدر انجمن احمد یہ کو مل جائے گا مگر جب تک وہ مشن مضبوط نہیں ہوتے ، میرا فیصلہ یہی ہے کہ اُن کا چندہ اُنہی مشنوں پر خرچ ہوتا رہے۔ یہ چندے بہت تھوڑے ہیں اور غیر ملکی جماعتیں بھی زیادہ نہیں ہیں ۔ صرف عرب یہ مصر، انگلستان، یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ اور ویسٹ افریقہ یہی غیر ملکی جماعتیں کہلاتی ہیں اور اُن کا چندہ بہت تھوڑا ہوتا ہے ۔ ان غیر ملکی جماعتوں کی طرف سے چندہ نہ آنے سے صدر انجمن احمد یہ کے بجٹ پر کوئی غیر معمولی اثر نہیں پڑ سکتا لیکن اس کے مقابلہ میں اگر یہ روپیہ انہی مشنوں پر خرچ کیا جائے تو اس سے ان کی ترقی میں بہت کچھ مدد مل سکتی ہے اور ان لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کیا جا سکتا ہے کہ تمہارا روپیہ تمہارے ملک میں ہی تبلیغ اسلام پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ تمہیں چاہئے کہ اپنے مشن کو اور زیادہ مضبوط کرنے کی کوشش کرو۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ چند سالوں میں ہی اس طریق کے ماتحت بیرونی ممالک کے مشن انشاء اللہ مضبوط ہو جائیں گے اور جب اُن کی ضروریات سے چندہ بڑھ گیا تو وہ روپیہ پھر صدر انجمن احمد یہ کو ہی ملنا شروع ہو جائے گا۔ ترجمة القرآن انگریزی کے متعلق اسی جگہ تین سال ہوئے فیصلہ ہوا تھا کہ اُس کو جلد سے جلد شائع کر دیا جائے ۔ کام کرنے والوں کے لحاظ سے گو بڑے زور سے جدو جہد کی گئی ہے مگر حالات کے لحاظ سے وہ جدو جہد نہایت ہی سُست ثابت ہوئی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تین سال کے بعد بھی ابھی وہ ترجمہ تیار نہیں ہوا ۔ اس سال چھپنا شروع ہوا ہے اور ۲۸۰ صفحات تک چھپ چکا ہے۔ مطبع والے کہتے ہیں کہ چھ ماہ میں وہ اس کی پہلی جلد جو