خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 13

خطابات شوری جلد دوم ۱۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ہیں اور چند منٹ کے مہمان معلوم ہوتے ہیں۔ وہ صحابی ان کے پاس گئے اور کہا اپنے گھر والوں کو کوئی پیغام دینا چا ہو تو دے دو ، میں پہنچا دوں گا ۔ اُس وقت اس صحابی نے جو جواب دیا وہ نہایت ہی شاندار تھا۔ اس حالت میں کہ وہ موت کے قریب تھے اور اپنی موت کے بعد اپنی بیوی بچوں کی حالت کا نظارہ اُن کی آنکھوں کے سامنے تھا اُنہوں نے جو ایمان کا نمونہ دکھایا وہ بتاتا ہے کہ انصار نے جو کہا سچے دل سے کہا تھا اور اُسے پورا کر کے دکھا دیا۔ اُنہوں نے کہا میں پہلے ہی اس بات کی انتظار میں تھا کہ کوئی دوست ملے تو اس کے ذریعہ اپنے رشتہ داروں کو پیغام بھیجوں ، اچھا ہو ا تم آ گئے ۔ پھر کہا وہ پیغام یہ ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے رشتہ داروں اور میرے دوستوں سے کہہ دینا کہ جب تک ہم زندہ تھے ہم نے اپنی جانیں قربان کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی مگر اب ہم اس دنیا سے رُخصت ہوتے ہیں اور یہ قیمتی امانت تمہارے سپرد کرتے ہیں امید ہے ہے کہ آپ ہم سے بھی بڑھ کر اس کی حفاظت کریں گے ۔ یہ کہا اور جان اپنے پیدا کرنے والے کے سپرد کر دی ہے حضرت موسی کے ساتھیوں والا جواب ہی دے دو سیرا یہ ایسا شاندار ایمان کا مظاہرہ ہے کہ جس کی مثال صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور جگہ بہت کم مل سکتی ہے۔ اب اگر ہم وہ جواب نہیں دے سکتے جو ان صادقوں اور راست بازوں والا جواب ہے جنھوں نے کوئی شرط نہ رکھی تھی اور جنھوں نے معاہدہ کو توڑ کر اپنی جانیں پیش کر دی تھیں تو کم از کم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں والا جواب تو دے دینا چاہئے کہ کسی نے کہا ہے سخی سے شوم بھلا جو ثرت دے جواب ۔“ ہم ملامت کرتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کو، ہم اُن کے اس فعل پر اظہار نفرت کرتے ہیں۔ جب انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هُهُنَا قَاعِدُونَ کہ جاؤ موسیٰ تم اور تمہارا خدا ان سے لڑو ہم تو یہ بیٹھے ہیں ۔ مگر ذرا غور تو کرو کیا ہم میں سے کئی ایسے نہیں جن کی حالت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ان ساتھیوں سے بھی بدتر ہے؟ وہ کہتے تو یہ ہیں کہ ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں لیکن عین موقع پر کھسک جاتے ہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں نے جو یہ کہا کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إنَّا هُهُنَا قَاعِدُون ۔ تو انہوں نے اس طرح بتا