خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 12

خطابات شوری جلد دوم الم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء و آلہ وسلم نے اس خیال سے کہ مدینہ والوں نے یہ اقرار کیا تھا کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو لڑیں گے باہر جا کر نہیں لڑیں گے ، صحابہ سے مشورہ پوچھا مہاجرین یکے بعد دیگرے کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ ہم لڑائی کے لئے تیار ہیں لیکن آپ اپنا سوال دہراتے چلے گئے تا انصار بھی بولیں ۔ تب انصار میں سے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے بار بار دریافت فرمایا اور صحابہ نے جواب دیا مگر پھر بھی آپ سوال کو دہراتے چلے جا رہے ہیں اس سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ شاید آپ کا شاید آپ انصار سے دریافت فرما رہے ہیں ۔ غالباً آپ کے مدنظر وہ معاہدہ ہے جو ہم نے آپ کے تشریف لانے پر کیا تھا کہ مدینہ پر حملہ ہو گا تو ہم آپ کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے لیکن مدینہ سے باہر جا کر لڑنا ہمارے لئے ضروری نہ ہوگا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں ۔ اس پر اس صحابی نے کہا یا رسول اللہ ! وہ اُس وقت کی بات ہے جب ہم نے آپ کو اچھی طرح نہ پہچانا تھا لیکن اب تو ہم آپ کو خوب پہچان چکے ہیں اس لئے ہم کہتے ہیں یا رَسُولَ اللہ ! یہ سامنے سمندر ہے اگر آپ حکم فرمائیں کہ اس میں گھوڑے ڈال دو تو ہم ایک لمحہ کا توقف بھی نہیں کریں گے اور اگر دشمن آپ پر حملہ کرے تو وہ آپ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک ہماری لاشوں پر سے گزر کر نہ آئے گا ۔ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی اور جب تک جان میں جان رہے گی دشمن کو آپ تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ ہے یہ تو ان کا قول تھا مگر عمل سے بھی انہوں نے اس کو درست ثابت کر دیا۔ دُنیا میں بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو منہ سے تو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر عمل سے انہیں پورا نہیں کرتے ۔ انصار نے (اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی رحمتیں اور برکتیں اُن پر ہوں ) جو کہا اُسے اپنے عمل سے پورا بھی کر دیا۔ ہمیشہ میرا قلب اس صحابی کا ذکر آنے پر اس کے لئے دُعائیں کرنے میں لگ جاتا ہے۔ جس نے اُحد کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اخلاص کا ایسا قابلِ رشک نمونہ پیش کیا کہ رہتی دنیا تک اس کی مثال قائم رہے گی ۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ احد کی جنگ میں جب کفار میدان سے چلے گئے اور مسلمان اپنے زخمیوں اور شہیدوں کی تلاش میں نکلے تو ایک انصاری نے دیکھا کہ ایک دوسرے انصاری بہت بُری طرح زخمی ہو کر میدانِ جنگ میں پڑے