خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 138
خطابات شوری جلد دوم ۱۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء اور قابلِ حقارت تھا اور باوجود اس کے کہ ہمارے ملک کے رواج کے مطابق صاحب خانہ کے سامان کے متعلق اس قسم کے الفاظ کا استعمال نا پسندیدہ سمجھا جاتا ہے وہ صاحب اس سامان کے رڈی ہونے سے کچھ ایسے متاثر ہوئے کہ اُس کے سوا اُنہیں اور کوئی مثال ہی نظر نہ آتی تھی ۔ اب سوچو تو سہی ان امراء کے لئے کتنی مصیبت ہو گی جو اس قسم کے خیالات رکھنے والے ہوں گے، جب احمدیت پھیل کر اُن سے مطالبہ کرے گی کہ وہ سادہ زندگی اختیار کریں اور غریبوں کی ترقی کے لئے اپنے اموال خرچ کریں اور اُن کو ان غرباء سے حکم سُننے پڑیں گے جن کو خدا تعالیٰ نے پہلے احمدیت میں داخل کر دیا لیکن اگر خالی احمدیت پر ایمان لے آئیں، اور اپنی زندگی میں کوئی تغیر پیدا تغیر پیدا نہ کریں تو ایسے ایمان کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے اور اس قسم کا ایمان احمدیت کی ترقی میں کس طرح محمد ہو سکتا ہے۔ اگر ایمان لا کر بھی وہی رسم و رواج رہیں جو پہلے تھے تو دنیا خاک بدلے گی؟ حالانکہ ہونا یہ ہے کہ یہ آسمان ایک اور آسمان سے اور یہ زمین ایک اور زمین سے بدلنی ہے۔ اب تک احمدیت کی وجہ سے ہماری جماعت کے افراد میں جو تغیر ہوا ہے وہ صرف یہ ہے کہ مسیح ناصری کو وفات یافتہ مان لیا، اجرائے نبوت کے مسئلہ کو تسلیم کر لیا اور اسی طرح کے بعض اور اعتقادی امور میں عام مسلمانوں سے الگ طریق عمل اختیار کر لیا۔ عبادات میں دوسروں سے زیادہ با قاعدگی پیدا کر لی مگر عملی تغیرات جو نظام سے تعلق رکھتے ہیں ، ان میں اب تک کیا تبدیلی ہوئی ہے؟ اور وہ تبدیلی ہو کس طرح سکتی ہے جب تک یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم اس دُنیا کو مٹانے اور ایک نئی دنیا کی تعمیر کے لئے کھڑے کئے گئے ہیں ۔ یورپی فلسفہ پر اسلام کی برتری میں دیکھتا ہوں کہ اگر کسی کے دل میں عملی تغیر کے میں ہوں دل پر کی برتری بھی پیدا ہوں متعلق جوش بھی پیدا ہوتا ہے تو وہ اسلام کی تعلیم کے ماتحت نہیں بلکہ یورپین مصنفین کی کتابیں پڑھ کر ۔ حالانکہ ان مصنفین کی دونوں تعلیمیں لعنتی ہیں۔ وہ بھی لعنتی ہے جو امراء کی تائید میں ہے اور وہ بھی لعنتی ہے جو غرباء کی تائید میں ہے۔ اُس میں بھی جھوٹ ہے اور اس میں بھی جھوٹ ہے۔ اُس میں بھی گند ہے اور اس میں بھی گند ہے ۔ اُن کی تہذیب کی مثال بالکل ویسی ہے جیسے کسی نے ایک اونٹ سے پوچھا تھا کہ