خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 137

خطابات شوری جلد دوم ۱۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۷ء کی بعثت کے مقصد کو سمجھا ہی نہیں ۔ اس نے سمجھا ہے کہ مامورین بھی صوفیاء کی طرح ہوتے ہیں جو آتے ہیں اور وعظ و نصیحت کر کے چلے جاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کے مامورین دنیا کو بدل دینے کے لئے آیا کرتے ہیں اور نہ صرف وہ تغیر پیدا کرتے ہیں جس کا ملکہ سبا نے ان الفاظ میں ذکر کیا کہ جعَلُوا أَعِزَّةَ اَهْلِهَا أَذِلَّةٌ ، بلکہ وہ تغیر بھی پیدا کرتے ہیں جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں ان الفاظ میں ذکر ہے کہ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جاویں گے پس مقام خوف ہے کے اس الہام میں جب یہ کہا گیا کہ کئی بڑے دے ہیں جو چھوٹے کئے جاویں گے تو اس کے یہ معنی تھے کہ دنیا کے بادشاہ، دُنیا کے وزراء ، دُنیا کے فلاسفر، دُنیا کے سائنسدان ، دنیا کے بڑے بڑے جرنیل، دُنیا کے انجینئر اور دُنیا کے ڈاکٹر غرض ہر شعبہ کے لوگ سلسلہ احمدیہ کے مقابلہ میں آ کر کسی نہ کسی رنگ میں زک اور ذلت اُٹھائیں گے اور جب یہ کہا کہ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے تو ان چھوٹوں سے مراد تم لوگ ہو جو احمدیت میں داخل ہوئے ۔ ہم میں سے ایک بھی ایسا شخص نہیں جو یہ کہہ سکے کہ دُنیا کے بڑے لوگوں کے مقابلہ میں اُس کی کچھ حیثیت ہے۔ مجھے ایک لطیفہ ایک شخص کا ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خاں ایک امیر کا واقعہ صاحب ایک دفعہ ایک دوست کو میری ملاقات کے لئے لائے یا انہوں نے اس دوست کو میری ملاقات کے لئے بھیجا۔ مجھے اس وقت اچھی طرح یاد نہیں کہ وہ خود ساتھ تھے یا نہیں۔ بہر حال اُس کے تعارف کا ذریعہ وہ تھے۔ یہ صاحب ایک زمیندار ہیں اور ایک بڑی ریاست میں بھی ایک معزز عہدہ پر ملازم رہ چکے ہیں ۔ باتوں باتوں میں اُنہوں نے والی ریاست کے متعلق کچھ گفتگو شروع کر دی مگر اس رنگ میں کہ کہ وہ وہ تو تو عجیب آدمی ہیں ۔ پرانا اور رڈی سامان بھی آثار قدیمہ قرار دے کر خرید لیا کرتے ہیں۔ اور یہ کہتے ہوئے وہ بار بار اُن گرسیوں اور صوفوں کی طرف اشارہ کرتے جاتے جو میرے کمرہ میں پڑے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ اس قسم کا رڈی کا سامان بھی وہ اچھا سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔ اب ذرا غور تو کرو کہ وہی سامان جو ہماری جماعت کے منافقوں کی نظر میں بوجہ حکمتوں سے نا واقف ہونے کے قابلِ اعتراض نظر آتا ہے، اس رئیس کے نزدیک نہایت ہی ذلیل