خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 562

خطابات شوری جلد اول ۵۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء اُس سے جواب طلب کیا جائے گا۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ کسی کو ڈھیل نہیں دی جاسکتی ۔ پچاس ہزار سالانہ جس جماعت پر بار بڑھ رہا ہو ا گر اُس کی آمدنی اڑھائی لاکھ بھی ہو تو پانچ سال میں ساری آمدنی قرض کی نظر ہو جائے گی ۔ پس اب کسی کو ڈھیل نہیں دی جا سکتی۔ کمیٹی کو دیکھنا یہ ہوگا کہ کون سے کام ایسے ہیں جو جاری رکھنے چاہئیں خواہ ہماری حالت قربانی کے انتہائی درجہ تک پہنچ جائے ۔ آگاه نمائندوں کا فرض یہ فیصلہ ہے جس سے میں جماعتوں کو ان نمائ ماعتوں کو ان نمائندوں کے ذریعہ آ کرنا چاہتا ہوں جو یہاں آئے ہوئے ہیں۔ نرمی سے سمجھا سمجھا کر ہم نے دیکھ لیا ہے۔ ان نمائندوں کا فرض ہے کہ یا تو وہ کوئی ایسا طریق اختیار کریں کہ کوئی احمدی کہلا کر نا دہند نہ رہے یا پھر وہ طریق اختیار کریں جو میں نے بتایا ہے کہ نادہندوں کی مرکز میں اطلاع دیں۔ اگر انہوں نے اس نقص کو دُور نہ کیا تو ان سے باز پرس ہو گی اور مندرجہ ذیل سزاؤں میں سے کوئی ایک انہیں دی جائے گی ۔ یا انہیں آئندہ کے لئے نمائندہ نہیں تسلیم کیا جائے گا یا جماعت میں کوئی معہدہ نہیں دیا جائے گا۔ یا انہیں میرے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر پھر بھی پرواہ نہ کی گئی تو جماعت ان سے بے تعلقی کا اظہار کرے گی کیونکہ انہوں نے جماعت کو سنبھالنے کا فرض ادا نہیں کیا۔ مومن کو کیا کرنا چاہئے یاد رکھنا چاہئے کوئی مومن مردود ہونا پسند نہیں کرتا۔ مومن ایک ہی بات جانتا ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان و مال خرچ کرتے کرتے اس دنیا سے گزر جائے ۔ آپ لوگوں کو بھی یہی طریق قبول کرنا ہوگا۔ سب کمیٹی کا پہلا اجلاس اب میں بجٹ کے خرچ کے حصہ کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرتا۔ پہلا فیصلہ اسی کمیٹی میں کروں گا اور اس کمیٹی کے اجلاس وقتاً فوقتاً ہوتے رہیں گے اور ضروری امور آئندہ سال کے لئے اُس میں طے ہوتے رہیں گے۔ دوستوں کو محرم کی تعطیلات میں ۵؍ مئی کو ۱۲ بجے کی گاڑی سے یہاں پہنچ جانا چاہئے۔ جماعت قادیان کی ذمہ داری قادیان کے لوکل جماعت کی ذمہ داری کے لحاظ سے قادیان کے نمائندوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس سب کمیٹی کے اجلاس سے قبل تفصیلی رپورٹ آجانی چاہئے ۔ جس میں ہر احمدی کا